پچھلی تحریر میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح جولیس سیزر سے لے کر پوپ گریگوری اور پھر فرانسیسی انقلابیوں سے لے کر ایٹمی سائنسدانوں تک، انسان نے وقت کو ”ریاضی کی زنجیروں“ میں جکڑنے کی کوشش کی۔
ہم نے دیکھا کہ کس طرح مغرب نے وقت کو ”پروڈکٹیوٹی“ (پروڈکٹیوٹی) اور ”ٹیکس کی وصولی“ کا آلہ بنا دیا۔
لیکن تصویر ابھی ادھوری ہے۔
آج ہم تاریخ کے اس دوسرے رخ کو پلٹتے ہیں جہاں وقت ”ٹک ٹک“ کرتی گھڑی کا نام نہیں، بلکہ ”عبادت“ اور ”کائناتی ربط“ (کاسمک کنیکشن) کا نام ہے۔
جہاں وقت کا پیمانہ ایٹم کی تھرتھراہٹ نہیں، بلکہ ”چاند کی روپہلی کرنیں“ اور ”سورج کے ڈھلتے سائے“ ہیں۔
آج 2026 میں کھڑے ہو کر، آئیے اسلام کے ”نظریہ وقت“ (کونسیپٹ آف ٹائم) کا وہ ورق الٹتے ہیں جو ہمیں بتاتا ہے کہ مسلمان کے لیے ”نیا سال“ محض کیلنڈر بدلنے کا نام نہیں، بلکہ اپنی ”ہجرت“ کو تازہ کرنے کا نام ہے۔
مغرب نے انسان کو ”نو سے پانچ“ (نائن ٹو فائیو) کا غلام بنایا۔ صنعتی انقلاب نے فیکٹری کا بھونپو بجایا اور انسان کو مشین بنا دیا۔ لیکن اسلام نے 1400 سال پہلے وقت کا جو نظام دیا، وہ ”گھڑی“ کے تابع نہیں تھا، وہ ”کائنات“ کے تابع تھا۔
اسلام میں وقت کا تعین نمبروں سے نہیں، بلکہ ”آسمانی واقعات“ سے ہوتا ہے۔
فجر: جب رات کی سیاہی پھٹتی ہے اور روشنی کی پہلی کرن پھوٹتی ہے۔
ظہر: جب سورج اپنے عروج (زینتھ) سے ڈھلنے لگتا ہے۔
عصر: جب سایہ ہر چیز کے قد سے دوگنا ہو جاتا ہے۔
مغرب: جب سورج ڈوب جاتا ہے۔
عشاء: جب شفق کی سرخی غائب ہو جاتی ہے۔
غور کیجیے!
اللہ نے نماز کو گھڑی کے ہندسوں (مثلاً ٹھیک 1 بجے) سے نہیں جوڑا، بلکہ ”سورج کی حرکت“ سے جوڑا۔
”إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا“
(بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں میں فرض ہے) [النساء: 103]۔
یہ نظام انسان کو فطرت (نیچر) سے جوڑتا ہے۔ ایک مسلمان جب وقت کا حساب رکھتا ہے تو وہ درحقیقت کائنات کی گردش کا مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے۔
مغربی وقت انسان کو ”مشینی“ بناتا ہے، اسلامی وقت انسان کو ”فلکیاتی مبصر“ (ایسٹرونومیکل آبزرور) بناتا ہے۔
دنیا کی تمام بڑی تہذیبوں (رومن، مصری، فارسی) نے ”شمسی کیلنڈر“ (سولر کیلنڈر) اپنایا۔
کیوں؟
کیونکہ سورج سے ”موسم“ جڑے ہیں، اور موسموں سے ”کھیتی باڑی“ اور ”ٹیکس“ جڑا ہے۔ شمسی کیلنڈر دراصل ”معیشت کا کیلنڈر“ ہے۔
لیکن اسلام نے ایک انقلابی اور بظاہر ”غیر منطقی“ فیصلہ کیا۔
اسلام نے ”قمری کیلنڈر“ (لونر کیلنڈر) کا انتخاب کیا۔ چاند کا سال سورج کے سال سے تقریباً 10 یا 11 دن چھوٹا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسلامی مہینے ہر سال موسم بدلتے رہتے ہیں۔
یہاں اللہ کی ”صفتِ عدل“ کی زبردست سائنس پوشیدہ ہے۔
ذرا سوچیے!
اگر رمضان کا مہینہ شمسی کیلنڈر (مثلاً جون) میں فکس ہوتا، تو دنیا کے ایک حصے میں ہمیشہ سخت گرمی اور لمبے روزے ہوتے، اور دوسرے حصے میں ہمیشہ سردی اور چھوٹے روزے, یہ ناانصافی ہوتی۔
اللہ نے ”چاند“ کا انتخاب کیا تاکہ رمضان پوری دنیا میں گھوم سکے۔ کبھی جون میں، کبھی جنوری میں۔ 33 سال کے چکر میں ہر انسان ہر موسم میں عبادت کا مزہ چکھ لیتا ہے۔ یہ ہے وقت کی ”روحانی جمہوریت“ (سپرچوئل ڈیموکریسی)۔
قرآن نے اسی لیے فرمایا:
”هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ“
(وہی ہے جس نے سورج کو اجالا اور چاند کو نور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں) [یونس: 5]۔
اسلام نے معیشت (سورج) کے بجائے عبادت اور عدل (چاند) کو ترجیح دی۔
عربِ جاہلیت میں بھی لوگ وقت کے ساتھ وہی کھلواڑ کرتے تھے جو رومن پوپ کرتے تھے۔ وہ اپنی مرضی سے مہینوں کو آگے پیچھے کر دیتے تھے (جسے ”نسی“ کہا جاتا تھا) تاکہ حرام مہینوں میں جنگ کر سکیں۔
قرآن نے سورۃ التوبہ میں اس پر سخت ضرب لگائی:
”إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ“
(مہینوں کا آگے پیچھے کرنا کفر میں اضافہ ہے) [التوبہ: 37]۔
حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے وقت کو ”ری سیٹ“ (ری سیٹ) کیا اور فرمایا:
”زمانہ گھوم کر اپنی اسی حالت پر آ گیا ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا“ [صحیح بخاری]۔
یہ اسلام کا اعلان تھا کہ وقت انسان کی جاگیر نہیں ہے۔ ہم اپنی سہولت کے لیے وقت کو موڑ نہیں سکتے، ہمیں وقت کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہے۔
آج جو ہم لیپ ایئرز اور ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے نام پر گھڑیاں آگے پیچھے کرتے ہیں، اسلام نے 1400 سال پہلے بتا دیا تھا کہ وقت کے ساتھ یہ ”چیٹنگ“ برکت کو ختم کر دیتی ہے۔
جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں کیلنڈر بنانے کا مشورہ ہوا، تو سوال اٹھا کہ ”سالِ اول“ کسے قرار دیا جائے؟
رومن اور عیسائی ”پیدائشِ مسیح“ سے تاریخ گنتے تھے۔ ایرانی اپنے بادشاہوں کی تاجپوشی سے۔ کچھ صحابہ نے مشورہ دیا کہ ”میلادِ مصطفیٰ“ ﷺ سے شروع کریں۔ کچھ نے کہا ”نزولِ وحی“ سے۔
لیکن حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کی بصیرت نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔ انہوں نے نہ پیدائش چنی، نہ فتح۔ انہوں نے ”ہجرت“ کو چنا۔
کیوں؟
کیونکہ پیدائش (برتھ ڈے) ایک غیر اختیاری عمل ہے، لیکن ہجرت (مائیگریشن) ایک ”شعوری انتخاب“ اور ”قربانی“ ہے۔
ہجرت وہ لمحہ تھا جب حق اور باطل الگ ہوئے۔
اسلامی کیلنڈر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسلمان کا وقت ”جشن“ سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ ”گھر بار چھوڑنے“ اور ”اللہ کے لیے نکل کھڑے ہونے“ سے شروع ہوتا ہے۔
ہمارا ”نیا سال“ کیک کاٹنے کا نہیں، بلکہ یہ سوچنے کا دن ہے کہ ہم نے اس سال اللہ کے لیے کیا چھوڑا؟ [حوالہ: الطبری، تاریخ الرسل والملوک]۔
پچھلی تحریر میں ہم نے آئن اسٹائن کی ”ٹائم ریلیٹیویٹی“ کی بات کی تھی۔ اسلام کے پاس اس کا اپنا ورژن ہے جسے ”برکت“ کہتے ہیں۔
جدید انسان کے پاس گھڑیاں بہت ہیں، مگر وقت نہیں ہے۔ ہمارے اسلاف کے پاس گھڑی نہیں تھی، مگر وقت بہت تھا۔
امام نوویؒ صرف 45 سال زندہ رہے، مگر اتنا لکھ گئے کہ آج پی ایچ ڈی اسکالرز پوری زندگی میں صرف اسے پڑھ پائیں، لکھ نہ پائیں۔
یہ کیسے ہوا؟
حدیث میں آتا ہے کہ قربِ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ
”وقت سکڑ جائے گا (تقارب الزمان)۔ سال مہینے جیسا، مہینہ ہفتے جیسا، اور ہفتہ دن جیسا لگے گا“ [جامع ترمذی]۔
آج یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا اور لایعنی مصروفیات نے وقت کی ”روح“ نکال دی ہے۔
اسلام کہتا ہے کہ وقت کی لمبائی (ڈیوریشن) اہم نہیں، اس کی ”گہرائی“ (ڈیپتھ / برکت) اہم ہے۔
گناہ وقت کو سکیڑ دیتا ہے، اور ذکرِ الٰہی وقت کو پھیلا دیتا ہے۔ یہ وہ ”کوانٹم فزکس“ ہے جو ابھی لیبارٹریوں کی سمجھ میں نہیں آئی۔
مغرب نے ”ہفتہ/اتوار“ (ویک اینڈ) کا تصور دیا جس کا مقصد ”کام سے فرار“ اور عیاشی ہے۔ اسلام نے ”جمعہ“ دیا، جس کا مطلب ہے ”اکٹھا ہونا“۔
یہ چھٹی کا دن نہیں تھا (صحابہ جمعہ پڑھ کر کام پر واپس جاتے تھے)، یہ ”ری کنکشن“ (ری کنکشن) کا دن تھا۔
سورۃ الجمعہ میں حکم ہے:
”جب نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو“ [الجمعہ: 9]۔
یہ ہفتہ وار ”ڈی ٹاکس“ (ڈی ٹاکس) ہے جو انسان کو مادی وقت سے نکال کر روحانی وقت میں لاتا ہے۔
جدید دور نے رات کو دن بنا دیا (نائٹ شفٹس / سکرینز)، جس سے ہماری بائیولوجی تباہ ہوئی۔
قرآن نے صدیوں پہلے فارمولا دیا تھا:
”وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا O وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا“
(ہم نے رات کو پردہ بنایا اور دن کو روزگار کا ذریعہ) [النباء: 10-11]۔
اسلامی وقت کا آغاز ”مغرب“ (غروبِ آفتاب) سے ہوتا ہے۔ یعنی اسلامی کیلنڈر میں نئی تاریخ رات سے شروع ہوتی ہے۔
یہ اشارہ ہے کہ
”اندھیرے کے بعد ہی اجالا آتا ہے“۔
مومن کی زندگی رات کی عبادت سے شروع ہوتی ہے اور دن کی جدوجہد پر ختم ہوتی ہے۔
یکم جنوری کو 2026 کا سورج طلوع ہوچکا ہے۔ دیوار پر لٹکا کیلنڈر ضرور بدلا ہوگا، لیکن اب اپنے دل کا کیلنڈر بھی سیٹ کریں۔
مغرب کے شمسی وقت (سولر ٹائم) کو ”حساب کتاب“ (کیلکولیشن) کے لیے استعمال کریں، اس میں کوئی حرج نہیں۔
قرآن خود کہتا ہے کہ
سورج اور چاند دونوں حساب کے لیے ہیں۔
(الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ [الرحمن: 5])۔
لیکن اپنی ”شناخت“، اپنی ”عبادت“ اور اپنے ”تہوار“ چاند کے ساتھ جوڑے رکھیں۔
وقت کو سیکنڈز میں نہیں، ”انفاس“ (سانسوں) میں گنیں۔ یعنی نہ ماضی کے پچھتاوے میں رہنا ہے، نہ مستقبل کی پریشانی میں، ہمیشہ ”حال“ (پریزنٹ) کے اس لمحے کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کرنا ہے۔
2026 میں آپ کی کلائی پر چاہے ایپل واچ (ایپل واچ) بندھی ہو، لیکن آپ کی نظر آسمان کے ہلال پر ہونی چاہیے۔ کیونکہ مشین وقت گنتی ہے، اور مومن وقت کو ”زندگی“ دیتا ہے۔
