ہم تاریخ کے اس انتہائی خطرناک، نازک اور بارودی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں صرف مرد ہی نہیں، بلکہ ہماری عورت بھی ایک شدید ترین ”نفسیاتی، حیاتیاتی اور شناختی بحران“ (Identity Crisis) کا شکار ہو چکی ہے۔
ایک طرف ٹک ٹاک، انسٹاگرام، کورین ڈراموں اور نیٹ فلکس کی یلغار نے ہماری معصوم اور کچی ذہن والی بیٹیوں کے دماغوں میں ”آئیڈیل مرد“، ”آئیڈیل رومانس“ اور ”پرفیکٹ لائف“ کا ایک ایسا جھوٹا، زہریلا، مصنوعی اور غیر فطری خاکہ (Simulacrum) بنا دیا ہے جس کا زمینی حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں، اور دوسری طرف ”میرا جسم میری مرضی“، ”مرد سے برابری“ اور ”آزادی“ کے کھوکھلے نعروں نے ان کے اندر کی اس ”فطری نزاکت“، ”حیا“ اور ”نسوانیت“ (Femininity) کو بے دردی سے قتل کر دیا ہے جو ایک کامیاب اور پرسکون ازدواجی زندگی کا سب سے بڑا ایندھن اور مرد کو تسخیر کرنے کا واحد ہتھیار تھی۔
آج ہم اس تلخ اور چبھتی ہوئی حقیقت کا سامنا کریں گے کہ کیوں ہماری نئی نویلی دلہنیں، جو بظاہر اعلیٰ تعلیم یافتہ، ڈگری ہولڈر اور ”ماڈرن“ ہیں، اپنے شریف النفس، دیندار اور حلال کمانے والے شوہروں کو محض اس لیے ”بور“، ”کم ہمت“، ”تھرل سے عاری“ یا ”نامرد“ سمجھ کر خلع کی درخواستیں دائر کر رہی ہیں کہ وہ ان کی ان ”فنٹاسیز“ کو پورا نہیں کرتے جو انہوں نے ”ففٹی شیڈز آف گرے“ یا فحش ناولوں میں پڑھی تھیں؟
کیوں ہمارے گھر ”سیکس لیس میرج“ (Sexless Marriage) کے قبرستان بن چکے ہیں جہاں میاں بیوی دو اجنبیوں کی طرح ایک چھت کے نیچے رہتے ہیں؟
اور کیوں ”امید سے ہونا“ (Pregnancy) جو کہ اللہ کی سب سے بڑی رحمت اور عورت کی تکمیل کا ذریعہ تھی، آج ہمارے معاشرے میں ایک ”بیماری“، ”عذاب“ اور شوہر سے ”فاصلے“ کا سبب بن چکا ہے؟
آج میں اس یکطرفہ اور مظلومانہ بیانیے کو ہتھوڑے سے توڑوں گا کہ ”ہمیشہ صرف مرد ظالم ہے“ اور لیبارٹری کے تازہ ترین اعداد و شمار، نفسیاتی تجزیوں اور قرآن کی ابدی حکمت کے ذریعے ثابت کروں گا کہ کس طرح آج کی عورت اپنے ہاتھوں سے اپنے ”نیورولوجیکل اور ہارمونل توازن“ کو برباد کر کے اپنے گھر کو ”سمجھوتہ ایکسپریس“ کی پٹری پر ڈال رہی ہے اور اپنی ہی نسلوں کی تباہی کا سامان کر رہی ہے۔
کہانی کا آغاز اس ”ذہنی آلودگی“ اور ”نیورولوجیکل کرپشن“ سے ہوتا ہے جو آج کی لڑکی کے نازک دماغ میں شادی سے بہت پہلے ہی بھر دی جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں، اور خاص طور پر اشرافیہ اور مڈل کلاس کے اسکولوں کالجوں میں ایک خاموش مگر مہلک وباء پھیل چکی ہے, لڑکیوں میں ”سافٹ پورن“ (Soft Porn)، ”ایروٹک لٹریچر“ (Erotic Literature)، کورین پاپ کلچر اور بولڈ ویب سیریز کا بڑھتا ہوا اور خطرناک رجحان۔
مغرب کے ”ففٹی شیڈز آف گرے“ (Fifty Shades of Grey) جیسے ناولوں، ”365 Days“ جیسی فلموں اور نیٹ فلکس کی حدود سے آزاد سیریز نے ہماری بچیوں کے لاشعور (Subconscious) میں یہ بات ہتھوڑے کی طرح بٹھا دی ہے کہ محبت اور سیکس کا مطلب ”وحشت“، ”جارحیت“ (Aggression)، ”ڈومیننس“ (Dominance) اور ”مسلسل تھرل“ ہے۔
ان کے کچے دماغوں کے ”ڈوپامائن ریسیپٹرز“ (Dopamine Receptors) اسکرین پر نظر آنے والے ان غیر حقیقی، اسکرپٹڈ اور ایڈیٹ شدہ مردوں کے عادی ہو چکے ہیں جو عورت کو دیوار سے لگا کر، بغیر کسی تمہید کے، بغیر کسی جذبات کے، جانوروں کی طرح ٹوٹ پڑتے ہیں اور اسے ”پیار“ کا نام دیتے ہیں۔
سائنس اسے ”Supernormal Stimulus“ کہتی ہے۔ یہ ایک ایسا نشہ ہے جو ہیروئن سے زیادہ خطرناک ہے۔
اس کا خوفناک نتیجہ کیا نکلتا ہے؟
جب یہ ”ہائی ڈوپامائن“ کی عادی لڑکی، جس کا دماغ ”فنٹاسی“ کے آسمان پر اڑ رہا ہوتا ہے، شادی کر کے ایک ایسے گھر میں جاتی ہے جہاں اس کا شوہر ایک ”دیندار“، ”شریف النفس“، خاندانی اور ”سلجھا ہوا“ انسان ہے، جو نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، یا اپنی شرافت کی وجہ سے پہلی رات یا عام زندگی میں اسے عزت دیتا ہے، اس کی رضامندی کا انتظار کرتا ہے، اسے ”اسپیس“ دیتا ہے، اور جانور بننے کے بجائے ”انسیت“ (Intimacy)، ”نرمی“ (Gentleness) اور ”پیار“ سے پیش آتا ہے، تو اس لڑکی کا ”Desensitized Brain“ (بے حس ہو چکا دماغ) اس رویے کو قبول نہیں کر پاتا۔ اس کے دماغ کو وہ ”کک“ (Kick) نہیں ملتی جس کا وہ عادی ہو چکا ہے۔
اسے یہ نرمی ”محبت“ نہیں لگتی، اسے یہ شرافت ”کمزوری“ اور ”بزدلی“ لگتی ہے۔ چونکہ اس کے دماغ کو ”ہائی وولٹیج جھٹکوں“ (Pornographic Intensity) کی عادت پڑ چکی ہے، اس لیے شوہر کی ”نارمل، حلال اور پاکیزہ محبت“ اسے ”Vanilla Sex“ (پھیکی اور بورنگ) لگتی ہے۔ وہ اپنے شوہر کو ”نامرد“ یا ”ٹھنڈا“ سمجھنے لگتی ہے۔
میرے پاس ایسے درجنوں نہیں، سینکڑوں کیس اسٹڈیز آئے ہیں جو دل دہلا دینے والے ہیں۔
ایک واقعہ مجھے یاد ہے جہاں ایک انتہائی شریف لڑکے کی شادی ایک ”ماڈرن خیالات“ والی لڑکی سے ہوئی۔ لڑکے نے پہلی رات لڑکی کی گھبراہٹ کو دیکھ کر اسے ہاتھ نہیں لگایا، صرف باتیں کیں اور سو گیا۔ اگلے دن لڑکی نے اپنی ماں اور سہیلیوں کو فون کر کے کہا:
”یہ تو مرد ہی نہیں ہے، اس میں تو وہ بات ہی نہیں ہے۔“
اور صرف تین ماہ میں اس نے خلع لے لی۔
عدالت میں اس نے لڑکے پر ”نامردی“ کا بھونڈا الزام لگایا۔ لڑکے نے میڈیکل ٹیسٹ بھی پیش کیے مگر لڑکی کی ”فنٹاسی“ پوری نہ ہونے کا غصہ اتنا تھا کہ اس نے اس شریف آدمی کی زندگی برباد کر دی۔
بعد میں پتا چلا کہ وہ لڑکی شادی سے پہلے کسی ”ٹاکسک ریلیشن شپ“ میں تھی جہاں اسے ”استعمال“ (Abuse) ہونے کی عادت پڑ چکی تھی اور ایک شریف آدمی کی عزت اسے راس نہیں آئی۔ یہ ”Qazaf“ (تہمت) کی جدید اور گھناؤنی شکل ہے جو ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیل رہی ہے۔
اے میری بہن!
یاد رکھ!
شوہر کی شرافت اس کی کمزوری نہیں، اس کی ”اعلیٰ تربیت“ اور ”ایمان“ ہے۔ اگر تم اپنے دماغ سے ”نیٹ فلکس کا کچرا“ اور ”ناولوں کی جھوٹی دنیا“ نکال دو، تو تمہیں پتا چلے گا کہ اصل سکون ”وائلڈ سیکس“ اور جانوروں جیسی چیخ و پکار میں نہیں، بلکہ مودت اور رحمت میں ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا۔ وہ سکون جو روح میں اتر جائے، وہ صرف حلال اور پاکیزہ طریقے میں ہے۔
اس کے بعد دوسرا بڑا اور تباہ کن المیہ ”سیکس لیس میرج“ (Sexless Marriage) کا ہے، جو آج کل ہر دوسرے گھر کی خاموش کہانی ہے۔
باہر سے جوڑے ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں، سوشل میڈیا پر ”کپل گولز“ (Couple Goals) کی تصویریں لگاتے ہیں، مگر بیڈ روم میں وہ دو اجنبیوں کی طرح کروٹ بدل کر سوتے ہیں۔
اس کی دو بنیادی اور بھیانک شکلیں ہیں۔
پہلی شکل ”جبری شادی یا روایتی ارینج میرج کی سرد مہری“ ہے۔ جب لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے، یا صرف خاندان، ذات پات یا جائیداد بچانے کے دباؤ پر ایک چھت کے نیچے رہتے ہیں، تو ان کے درمیان ”جسمانی تعلق“ تو شاذ و نادر ہو جاتا ہے (وہ بھی محض فریضہ سمجھ کر، بچے پیدا کرنے کے لیے یا مرد کے انتہائے جذبات کی بدولت)، لیکن ”روحانی تعلق“ (Pair Bonding) کبھی قائم نہیں ہوتا۔
سائنس بتاتی ہے کہ جب عورت بغیر ”دلی رضامندی، پسندیدگی اور جذباتی لگاؤ“ کے سیکس کرتی ہے، تو اس کا جسم ایک ”Trauma Response“ دیتا ہے۔
اس کے جسم میں ”آکسیٹوسن“ (محبت کا ہارمون) کے بجائے ”کورٹیسول“ (تناؤ کا ہارمون) پیدا ہوتا ہے۔ وہ اس عمل سے نفرت کرنے لگتی ہے، اسے یہ ”ریپ“ جیسا لگتا ہے۔
لیکن جب ایک دو بچے ہو جاتے ہیں، تو پھر معاشرتی دباؤ، طلاق کے خوف اور ”لوگ کیا کہیں گے“ کے ڈر سے وہ ”سمجھوتہ ایکسپریس“ کی مسافر بن جاتی ہے۔
یہ زندگی نہیں، یہ ”Slow Poisoning“ ہے جو اسے وقت سے پہلے بوڑھا اور چڑچڑا کر دیتی ہے۔
دوسری شکل اس سے زیادہ خطرناک اور المیہ ہے، جو ”لو میرج کا زوال“ ہے۔ لڑکے لڑکی نے پسند کی شادی کی، دنیا سے لڑ کر شادی کی، دعوے کیے کہ ہم ایک دوسرے کے بغیر نہیں جی سکتے۔ ابتدائی دو تین سال ”ہنی مون پیریڈ“ رہا، ڈوپامائن عروج پر رہا، جسمانی کشش نے سب کچھ ڈھانپ لیا، لیکن پھر کیا ہوا؟
پھر ”بوریت“ (Boredom) آ گئی۔ دل بھر گیا۔
کیوں؟
کیونکہ ان کا رشتہ ”اللہ کی رضا“، ”باہمی احترام“ یا ”ذمہ داری“ پر نہیں، بلکہ صرف ”جسمانی کشش“، ”فنٹاسی“ اور ”ضد“ پر کھڑا تھا۔
سائنس کہتی ہے کہ ”Passionate Love“ کی عمر صرف 18 سے 36 ماہ ہوتی ہے۔ یہ نیورو کیمیکل حقیقت ہے۔ اس کے بعد اگر آپ کے رشتے میں ”دوستی“، ”احترام“، ”خدمت“ اور ”مشترکہ مقاصد“ نہیں ہیں، تو وہ رشتہ مر جائے گا۔
آج کل لڑکیاں سمجھتی ہیں کہ شادی کا مطلب ہے کہ شوہر 24 گھنٹے ان کے نخرے اٹھائے، انہیں سرپرائز دے اور فلمی انداز میں رومانس کرے۔ جب عملی زندگی کی ذمہ داریاں آتی ہیں، بل آتے ہیں، بچوں کے رونے کی آوازیں آتی ہیں، تو وہ مایوس (Disillusioned) ہو جاتی ہیں اور شوہر سے دور ہونے لگتی ہیں۔ وہ بستر پر پیٹھ پھیر کر سوتی ہیں، سر درد کا بہانہ بناتی ہیں، یا بچوں کو درمیان میں سلا لیتی ہیں۔
یہ رویہ شوہر کو باہر کی طرف دھکیلتا ہے, یا تو گناہ اور فحاشی کی طرف، یا پھر دوسری شادی کی طرف۔
یاد رکھیں!
مرد کے لیے قربت (Intimacy) صرف جسمانی ضرورت نہیں، یہ اس کا ”Emotional Fuel“ (جذباتی ایندھن) اور ”Ego Boost“ ہے۔
اگر آپ اسے یہ ایندھن نہیں دیں گی، اگر آپ اسے یہ احساس نہیں دلائیں گی کہ وہ آپ کے لیے پرکشش ہے، تو اس کی گاڑی (رشتہ) رک جائے گی یا وہ کسی اور پمپ سے ایندھن بھروا لے گا۔
اب آتے ہیں اس تحریر کے سب سے اہم، حساس اور آنکھیں کھول دینے والے حصے کی طرف جو ہماری خاندانی تباہی کا مرکز اور ساس بہو کے جھگڑوں کی جڑ ہے: ”حمل (Pregnancy) کا ڈرامہ اور میکے کا زہریلا کلچر“۔
ہمارے مشرقی معاشرے میں، اور خاص طور پر برصغیر پاک و ہند کی مڈل کلاس میں، یہ ایک وبائی رواج بن چکا ہے کہ جونہی لڑکی امید سے ہوتی ہے (Good News)، اسے فوراً ایک ”مریض“ (Patient) اور ”معذور“ بنا دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹرز تو احتیاط کا کہتے ہیں، لیکن ہماری ”سیانی مائیں“ اور ”ہمدرد ساسیں“ اسے بستر سے لگنے کا حکم دے دیتی ہیں۔
لڑکی پہلے سمسٹر (First Trimester) میں ہی، جب ابھی پیٹ ظاہر بھی نہیں ہوتا، نخرے شروع کر دیتی ہے اور میکے جا کر بیٹھ جاتی ہے، یا سسرال میں بھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتی ہے کہ
”میں حاملہ ہوں، میں کام نہیں کر سکتی، میں جھک نہیں سکتی، مجھ سے روٹی نہیں پکتی۔“
میکے میں ماں صدقے واری جاتی ہے، بیٹی کو بیڈ ٹی (Bed Tea) دیتی ہے اور پانی کا گلاس تک نہیں اٹھانے دیتی۔
خدارا ہوش کے ناخن لیں!
یہ ”محبت“ نہیں، یہ ”جہالتِ مطلق“ ہے اور ہونے والے بچے اور خود ماں کے ساتھ ”کھلی طبی دشمنی“ ہے۔
میڈیکل سائنس، فزیوتھراپی اور گائناکالوجی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ حمل کوئی ”بیماری“ (Disease) نہیں ہے جس کا علاج بیڈ ریسٹ ہے، بلکہ یہ ایک ”فزیولوجیکل اسٹیٹ“ (Physiological State) ہے، یہ ایک قدرتی عمل ہے جس کے لیے عورت کا جسم ڈیزائن کیا گیا ہے۔
جب ایک حاملہ عورت چلنا پھرنا چھوڑ دیتی ہے، گھر کے کام کاج (جھاڑو لگانا، آٹا گوندھنا، کپڑے دھونا جو کہ بہترین Squatting Exercises ہیں) ترک کر دیتی ہے، تو اس کے ”Pelvic Floor Muscles“ (شرمگاہ اور پیٹ کے نچلے پٹھوں) میں لچک ختم ہو جاتی ہے، وہ جام (Stiff) ہو جاتے ہیں۔
اس کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے، وزن غیر ضروری طور پر بڑھ جاتا ہے، خون کی روانی کم ہو جاتی ہے اور اس میں درد برداشت کرنے کی صلاحیت (Pain Threshold) ختم ہو جاتی ہے۔
اس کا بھیانک نتیجہ کیا نکلتا ہے؟
جب نو ماہ بعد ڈیلیوری کا وقت آتا ہے، تو بچے کا سر نیچے نہیں آتا (Engage نہیں ہوتا)، بچہ دانی کا منہ نہیں کھلتا، اور ماں میں اتنا دم نہیں ہوتا کہ وہ ”پش“ (Push) کر سکے۔
ڈاکٹرز کو مجبورا، ماں اور بچے کی جان بچانے کے لیے ”C-Section“ (بڑا آپریشن) کرنا پڑتا ہے۔
آج جو شہروں میں ہر دوسری لڑکی کا آپریشن ہو رہا ہے، اس کی بڑی وجہ ڈاکٹروں کا لالچ نہیں (جیسا کہ عام تاثر ہے)، بلکہ ہماری لڑکیوں کی ”Sedentary Lifestyle“ (سست اور آرام دہ طرزِ زندگی) اور ماؤں کا غلط لاڈ پیار ہے۔
اس کے برعکس، دیہاتوں کی وہ سخت جان عورتیں، یا شہر کی وہ سمجھدار اور باہمت لڑکیاں جو نویں مہینے تک سسرال یا اپنے گھر میں رہتی ہیں، اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہیں، جھاڑو پونچھا کرتی ہیں، روٹی پکاتی ہیں اور متحرک رہتی ہیں، ان کے پٹھے مضبوط رہتے ہیں، بچے کی پوزیشن قدرتی طور پر درست (Cephalic) رہتی ہے اور وہ اکثر نارمل ڈیلیوری سے فارغ ہوتی ہیں۔
وہ آدھا درجن بچوں کے بعد بھی فٹ، ایکٹو اور سمارٹ رہتی ہیں، جبکہ ہماری ”نازک مزاج شہزادیاں“ ایک بچے کے آپریشن کے بعد ہی کمر درد، لٹکے ہوئے پیٹ اور موٹاپے کا شکار ہو کر بستر کی زینت بن جاتی ہیں اور 30 سال کی عمر میں 50 سال کی لگتی ہیں۔
اس ”میکے جانے“ اور ”بیڈ ریسٹ“ کے کلچر کا ایک اور انتہائی بھیانک اور تباہ کن نقصان ”ازدواجی تعلق کا قتل“ ہے۔
جب ایک نئی نویلی دلہن، جس کی شادی کو ابھی شاید چھ ماہ, سال ڈیڑھ سال ہوا ہو، حمل کے بہانے چھ چھ، سات سات مہینے کے لیے میکے جا کر بیٹھ جاتی ہے، تو وہ اپنے شوہر کو کس حال میں چھوڑتی ہے؟
ذرا اس پہلو پر بھی غور کریں۔
وہ شوہر جو ابھی شادی کے بندھن کا عادی ہو رہا تھا، جس نے اپنی جوانی کی عفت کو نکاح کے قلعے میں محفوظ کیا تھا، جس نے اپنی آنکھوں اور جذبات کو صرف ایک عورت تک محدود کیا تھا، اچانک وہ پھر سے ”کنوارہ“ اور ”تنہا“ ہو جاتا ہے۔
یہ وہ وقت ہوتا ہے جب مرد سب سے زیادہ ”Vulnerable“ (غیر محفوظ) اور ”Frustrated“ ہوتا ہے۔ اس کا جسم اور دماغ بیوی کی قربت اور محبت کا عادی ہو چکا ہوتا ہے، لیکن بیوی میلوں دور میکے میں ماں کے ہاتھ کے پراٹھے کھا رہی ہوتی ہے اور شوہر کو صرف فون پر ”طبیعت خراب ہے“ کی رپورٹ دیتی ہے۔ یہ دوری (Gap) صرف جسمانی نہیں ہوتی، یہ ”Emotional Disconnect“ کا باعث بنتی ہے۔
شوہر کو لگتا ہے کہ بیوی کے لیے ”بچہ“ یا ”ماں باپ“ اہم ہیں، اور میں صرف ایک ”سپانسر“ (Sponsor) اور ”اے۔ٹی۔ایم مشین“ ہوں جس کا کام صرف ہسپتال کے بل دینا اور نخرے اٹھانا ہے۔
اس دوران شوہر کا بھٹکنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ پورن سائٹس، آفس کی کولیگز، سوشل میڈیا کی دوستی، یا صرف ذہنی دوری, یہ سب اسی ”خلا“ (Vacuum) کا نتیجہ ہیں جو بیوی نے خود پیدا کیا۔ اور جب وہ بھٹک جاتا ہے تو پھر بیوی روتی ہے کہ
”مرد بے وفا ہوتے ہیں۔“
نہیں میری بہن!
مرد بے وفا نہیں تھا، تم نے اسے اس وقت تنہا چھوڑا جب اسے تمہاری سب سے زیادہ ضرورت تھی۔
اسلام اور جدید سائنس دونوں کہتے ہیں کہ حمل کے دوران جنسی تعلق (سوائے چند پیچیدہ طبی حالات کے جیسے Placenta Previa یا ہائی رسک پریگنینسی) بالکل محفوظ، نارمل اور صحت مند عمل ہے۔
بلکہ جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ حمل کے آخری ایام میں شوہر کی قربت ”Oxytocin“ اور ”Prostaglandins“ ریلیز کرتی ہے جو قدرتی طور پر لیبر (Labor) شروع کرنے اور نارمل ڈیلیوری میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ لیکن ہماری لڑکیوں کو جاہل دائیوں اور ماؤں کی طرف سے سکھایا جاتا ہے کہ
”حمل میں شوہر کے قریب بھی نہیں جانا، بچہ ضائع ہو جائے گا، یا بچے کو چوٹ لگ جائے گی۔“
یہ جہالت کی انتہا ہے اور فطرت کے خلاف جنگ ہے۔
شوہر کا حق ہے، اور بیوی کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ دورانِ حمل بھی اپنے شوہر کے دل اور بستر کو آباد رکھے۔
اسے اپنی تکلیف کا احساس دلائے، مگر اسے تنہا نہ چھوڑے۔ شوہر کے پاس رہنے سے، اس کی محبت بھری باتوں سے اور اس کے لمس سے عورت کے جسم میں جو ”ہارمونز“ پیدا ہوتے ہیں، وہ اس کے حمل کے ڈپریشن (Prenatal Depression) کا بہترین علاج ہیں۔
اب ذرا ”پوسٹ پارٹم“ (Post-Partum) یعنی بچے کی پیدائش کے بعد کے دور کو دیکھیں۔
بچہ پیدا ہوتے ہی عورت سمجھتی ہے کہ اب اس کا ”مشن“ مکمل ہو گیا اور شوہر کا ”چیپٹر“ کلوز۔ بچہ اس کی کائنات بن جاتا ہے اور شوہر ایک ”فالتو چیز“۔
وہ اپنی صفائی کا خیال رکھنا چھوڑ دیتی ہے، ہر وقت دودھ کی بو اور بکھرے بالوں میں رہتی ہے۔ شوہر کمرے میں آتا ہے تو اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا چپ رہنے کا کہا جاتا ہے کہ ”بچہ جاگ جائے گا۔“ یہ رویہ شوہر کو گھر سے بیزار کر دیتا ہے۔ وہ دیر تک آفس میں بیٹھنا شروع کر دیتا ہے یا دوستوں میں وقت گزارتا ہے۔ گھر اسے ”گھر“ نہیں بلکہ ”بچوں کا وارڈ“ لگنے لگتا ہے۔ یہیں سے وہ ”سمجھوتہ ایکسپریس“ چل پڑتی ہے جس میں مسافر ساتھ تو ہوتے ہیں مگر ان کی منزلیں جدا ہوتی ہیں۔
میرا حتمی تجزیہ، گائیڈ بک اور مشورہ آج کی ماڈرن اور کنفیوزڈ لڑکی کے لیے یہ ہے:
اے جدید دور کی بیٹی!
تم ”فیمینزم“ کے کھوکھلے اور تباہ کن نعروں میں آ کر اپنی ”فطرت“ سے جنگ مت کرو۔
یہ جو تمہیں سوشل میڈیا پر سکھایا جاتا ہے کہ ”ساس کی خدمت کیوں کروں؟“ یا ”شوہر کے پاؤں کیوں دباؤں؟“ یا ”میں کوئی نوکرانی ہوں؟“
یاد رکھو!
ازدواجی زندگی ”حقوق کی جنگ“ (Battle of Rights) نہیں، بلکہ ”ایثار، قربانی اور محبت کا سودا“ ہے۔
جب تم اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہو، اس کے گھر کو اپنا گھر سمجھ کر سنبھالتی ہو، حمل کی تکلیف کے باوجود اس کے لیے مسکراتی ہو، اس کی ضروریات کا خیال رکھتی ہو اور میکے بھاگنے کے بجائے اس کے پہلو میں رہ کر درد سہتی ہو، تو تم ”غلام“ نہیں بنتیں، تم اس کی ”ملکہ“ (Queen) بن جاتی ہو۔
تم اس کے دل کو ایسے فتح کرتی ہو کہ پھر وہ تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ تم اس کے لیے ”ناگزیر“ (Indispensable) بن جاتی ہو۔
سائنس کہتی ہے کہ جب تم کسی کی خدمت کرتی ہو، تو اس کے دماغ میں تمہارے لیے ”Gratitude“ (شکرگزاری) اور ”Affection“ (شفقت) کے نیورل سرکٹس بنتے ہیں۔
یہ بائیولوجیکل حقیقت ہے۔ مرد فطرت سے ”بصر“ (Visual) اور ”پیٹ“ کا غلام ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ وہ ”عزت“ (Respect) اور ”سکون“ کا غلام ہے۔
یہ ”میکہ“ ایک سہارا ہے، اسے ”فرار کا راستہ“ (Escape Route) مت بناؤ۔ تمہارا اصل گھر، تمہاری اصل سلطنت وہ ہے جہاں تمہارا شوہر ہے۔
اگر تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر، یا حمل کے بہانے میکے جا کر بیٹھو گی، تو یاد رکھنا، تم پیچھے ایک ایسا ”خلا“ چھوڑ کر آؤ گی جسے کوئی اور (گناہ، بری عادت، یا دوسری عورت) بھر دے گا، اور پھر تم ساری زندگی ”سمجھوتہ ایکسپریس“ میں روتے ہوئے سفر کرو گی اور کہو گی کہ ”میری قسمت خراب تھی۔“
قسمت خراب نہیں تھی، تمہارے ”فیصلے“ غلط تھے اور تمہاری ”تربیت“ میں نیٹ فلکس کا زہر شامل تھا۔
اپنے دماغ کو پورن اور ڈراموں کے فریب سے پاک کرو۔ اپنے شریف شوہر کی قدر کرو جو حلال کما کر لا رہا ہے۔ اپنی ”بیالوجی“ کو سمجھو۔
متحرک رہو، کام کرو، اور اپنے شوہر کے لیے وہی ”لباس“ اور ”کھیتی“ بنو جس کا حکم رب نے دیا ہے۔ کیونکہ جو عورت اپنے گھر کو ”آباد“ کرتی ہے، اللہ اس کی نسلوں کو ”آباد“ کر دیتا ہے، اور جو عورت ”انا“ کی خاطر گھر اجاڑتی ہے، اس کی نسلیں نفسیاتی ہسپتالوں، طلاق یافتہ خاندانوں اور اولڈ ہاؤسز میں رلتی ہیں۔
فیصلہ تمہارا ہے، کیونکہ زندگی تمہاری ہے۔ اس گھر کو ”جنگ کا میدان“ مت بناؤ، اسے ”سکون کا مسکن“ بناؤ، یہی تمہاری سب سے بڑی جیت ہے۔
