ہم تاریخ کے ایک ایسے پرخطر اور نازک دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں انسان نے اپنی محدود عقل کے بت کو اپنے ہاتھوں سے تراش کر اسے خدا کے منصب پر بٹھا دیا ہے اور اپنی بے لگام خواہشات کو ”انسانی حقوق“ اور ”ذاتی آزادی“ کا خوشنما نام دے کر پوجنا شروع کر دیا ہے۔
اکیسویں صدی کا جدید انسان، جو خود کو تہذیب کے عروج پر سمجھتا ہے، جب صبح بیدار ہوتا ہے تو اس کے ہاتھ میں تسبیح کے بجائے اسمارٹ فون ہوتا ہے اور اس کے ذہن کے پردے پر وہ تمام غلیظ ”تصویریں“ اور ہیجان انگیز ”خیالات“ رقص کر رہے ہوتے ہیں جنہیں وہ رات کے اندھیرے میں اپنی آنکھوں کے راستے اپنے دماغ کے خلیوں میں انڈیل چکا ہوتا ہے۔
یہ وہ دور ہے جہاں زنا کو ”رضامندی کا تعلق“ کہہ کر سندِ جواز بخشی جاتی ہے، جہاں ہم جنس پرستی کو ”جینیاتی مجبوری“ یا ”فخر“ (Pride) کا نام دے کر فطرت کے منہ پر طمانچہ مارا جاتا ہے، جہاں مشت زنی کو ”سیلف لو“ (Self-Love) اور ”تناؤ کا علاج“ کہہ کر نوجوانوں کو اپنی ہی مردانگی کے قتل پر اکسایا جاتا ہے، اور جہاں بدنظری کو ”جمالیاتی ذوق“ اور ”حسن پرستی“ کا نام دے کر حلال کر لیا گیا ہے۔
مگر اس چکا چوند اور آزادی کے نعروں کے شور میں، کیا ہم نے کبھی ایک لمحے کے لیے رک کر، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا ہے کہ یہ سب کچھ جو ہم نام نہاد ”آزادی“ کے نام پر کر رہے ہیں، یہ ہمارے اندر، ہمارے اس گوشت پوست کے دماغ، ہمارے نازک اعصاب اور اس لطیف روح کے ساتھ کیا بھیانک کھیل کھیل رہا ہے؟
آج میں آپ کو ایک ایسے سفر پر لے چلوں گا جو شاید آپ کے لیے شدید تکلیف دہ ہو، جو شاید آپ کے ان تمام خوشنما اور لبرل نظریات کو ریزہ ریزہ کر دے جو مغرب کے تعلیمی اداروں اور میڈیا نے برسوں کی محنت سے آپ کے ذہن میں بٹھائے ہیں، لیکن یہ سفر ناگزیر ہے کیونکہ آج ہم لیبارٹری کا آہنی دروازہ بھی کھولیں گے اور مسجد کے منبر کا تقدس بھی دیکھیں گے، اور پھر ان دونوں کے درمیان کھڑے ہو کر انسان کا وہ ”پوسٹ مارٹم“ کریں گے جو صدیوں سے ادھار چلا آ رہا ہے، تاکہ ہم جان سکیں کہ ہم ”ارتقاء“ کی طرف جا رہے ہیں یا ”نیورانز کی خودکشی“ کی طرف۔
کہانی کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں سے گناہ اور تباہی کا پہلا بیج بویا جاتا ہے, یعنی ”آنکھ“ سے۔ انسان کی ساری بربادی اور ساری آبادی کا دروازہ یہی دو انچ کی آنکھ ہے جو دماغ کی کھڑکی ہے۔
الہیات کے دائرے میں جب ہم قدم رکھتے ہیں تو ہمیں چودہ سو سال پیچھے عرب کے تپتے ہوئے ریگزاروں میں ایک ایسی آواز سنائی دیتی ہے جو انسانی نفسیات کی گہرائیوں سے واقف ہے، وہ آواز خالق کی ہے جو کہتی ہے:
”مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں“
(قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ)۔
بظاہر یہ ایک سادہ سی اخلاقی نصیحت لگتی ہے، معاذ اللہ ایک ایسی دقیانوسی پابندی جو شاید انسان کی آزادی سلب کرنے اور اسے لطف سے محروم کرنے کے لیے لگائی گئی ہو۔
جدید لبرل ذہن، جو ہر چیز کی منطق مانگتا ہے، فوراً سوال اٹھاتا ہے کہ
”آخر دیکھنے میں کیا ہرج ہے؟ اگر میں کسی خوبصورت چہرے کو دیکھ کر، کسی کے جسم کے نشیب و فراز کو دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا ہوں اور کسی کو کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا رہا، تو یہ گناہ کیوں؟ یہ حرام کیوں؟“
یہاں آ کر مذہب بظاہر خاموش ہو جاتا ہے اور سائنس کا ”بایاں ٹریک“ (Left Track) بولنا شروع کرتا ہے، اور جب سائنس بولتی ہے تو حقائق کی ایسی دنیا آشکار ہوتی ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔
جدید نیورو سائنس جب فنکشنل ایم آر آئی (fMRI) کے ذریعے انسان کے دماغ کا جائزہ لیتی ہے تو ایک خوفناک حقیقت سامنے آتی ہے۔
سائنس بتاتی ہے کہ جنسی عمل کی شروعات شرمگاہ سے نہیں، ہارمونز سے نہیں، بلکہ دماغ کے پچھلے حصے میں موجود ”بصری پرانتستا“ (Visual Cortex) سے ہوتی ہے۔
جب ایک مرد کسی نامحرم عورت کو، کسی نیم برہنہ جسم کو یا کسی فحش تصویر کو دیکھتا ہے، تو یہ عمل محض ”دیکھنا“ نہیں ہوتا۔
اس لمحے اس کے دماغ کے ”انعام کے مرکز“ (Reward Circuit) میں، جسے Nucleus Accumbens کہا جاتا ہے، ایک زبردست کیمیائی دھماکہ ہوتا ہے۔
یہ دھماکہ ”ڈوپامائن“ (Dopamine) نامی نیورو ٹرانسمیٹر کا ہوتا ہے۔ ڈوپامائن وہ طاقتور کیمیکل ہے جو انسان کو ”مزید“ کی طلب، ”جستجو“ اور ”بے چینی“ میں مبتلا کرتا ہے۔ یہ وہی کیمیکل ہے جو کوکین اور ہیروئن کے نشے میں خارج ہوتا ہے۔
یہاں سائنس ایک عجیب و غریب اور دلچسپ اصطلاح متعارف کراتی ہے جسے ”The Coolidge Effect“ کہا جاتا ہے۔
یہ بائیولوجیکل حقیقت ہے کہ مرد کا دماغ (اور کسی حد تک عورت کا بھی) ”نئے پن“ (Novelty) کا دیوانہ ہے۔
اس کا نام امریکی صدر کیلون کولج کے نام پر رکھا گیا تھا جنہوں نے ایک فارم کے دورے پر دیکھا کہ ایک مینڈھا بار بار نئی بھیڑوں کے ساتھ تعلق قائم کر رہا ہے حالانکہ وہ تھک چکا تھا۔
سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ جب آپ سڑک پر، بازار میں، یا موبائل اسکرین پر ہر روز، ہر گھنٹے نئے چہروں، نئے جسموں اور نئی اداؤں کو دیکھتے ہیں، تو آپ کا دماغ ہر بار ڈوپامائن کی ایک نئی اور طاقتور ”کک“ (Kick) لیتا ہے۔
بظاہر یہ بہت مزے کی اور تھرلنگ بات لگتی ہے، لیکن اس کا انجام انتہائی خوفناک اور تاریک ہے۔
اس کا انجام ہے ”Habituation“ یعنی عادت پڑ جانا یا بے حس ہو جانا۔ جب آپ کا دماغ روزانہ سینکڑوں ورائٹی کی عورتیں دیکھنے کا عادی ہو جاتا ہے، جب اسے ہر پل نیا ”بصری ذائقہ“ ملتا ہے، تو وہ اپنی گھر میں موجود ”حلال بیوی“ سے، جو کہ ایک مستقل اور پرانا چہرہ ہے، بور ہو جاتا ہے۔
اسے وہ بیوی اب ”پرانی“، ”بے کشش“ اور ”معمولی“ لگنے لگتی ہے، حالانکہ اس بیوی میں کوئی کمی نہیں ہوتی، وہ اتنی ہی خوبصورت ہوتی ہے جتنی پہلے دن تھی، کمی اس شخص کے دماغ کے ”ریسیپٹرز“ میں آ چکی ہوتی ہے جو اب نارمل محرک (Normal Stimulus) پر ریسپانڈ نہیں کرتے۔
اسلام نے جب نظریں جھکانے کا حکم دیا تو وہ دراصل آپ کو ”تنگ نظر“ یا ”ملّا“ نہیں بنا رہا تھا، بلکہ وہ آپ کے دماغ کی اس ”حساسیت“ (Sensitivity) کی حفاظت کر رہا تھا، وہ آپ کے ڈوپامائن لیول کو مستحکم رکھ رہا تھا تاکہ آپ کی بیوی آپ کے لیے ہمیشہ نئی اور پرکشش رہے اور آپ کا خاندانی نظام تباہ نہ ہو۔
سائنس آج چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ”نظر کی آوارگی“ انسان کو ”جنسی نااہلی“ اور ”عدم اطمینان“ کی طرف لے جاتی ہے، اور قرآن صدیوں پہلے کہہ چکا تھا کہ یہ ”پاکیزگی“ (ازکٰی لہم) کا راستہ ہے۔
آنکھ کی اس خیانت اور دماغ کی اس ابتدائی بربادی سے تھوڑا مزید آگے بڑھیں تو اگلا پڑاؤ ”بدخیالی“، ”فنٹاسی“ اور پھر ”مشت زنی“ (Masturbation) کا آتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑا طبقہ، خاص طور پر مغربی نفسیات سے متاثر ماہرین کا ایک گروہ، نوجوانوں کو یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ
”مشت زنی ایک بالکل نارمل اور صحت مند عمل ہے، یہ جنسی تناؤ کم کرتا ہے، یہ پروسٹیٹ کینسر سے بچاتا ہے اور اس کا کوئی نقصان نہیں۔“
لیکن جب ہم سائنس کی گہرائی میں اترتے ہیں اور جدید ترین نیورولوجیکل تحقیقات کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ دعویٰ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔
جرمنی کے مشہور زمانہ میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ (Max Planck Institute) کی 2014 کی تحقیق نے ثابت کیا کہ جو لوگ کثرت سے فحش فلمیں (Pornography) دیکھتے اور مشت زنی کرتے ہیں، ان کے دماغ کا وہ اہم ترین حصہ جسے ”Striatum“ اور ”Prefrontal Cortex“ کہتے ہیں، سکڑنا (Shrink) شروع ہو جاتا ہے۔
یہ وہ حصے ہیں جو انسان کی ”قوتِ ارادی“ (Will Power)، فیصلہ سازی، اخلاقیات اور خود پر قابو پانے کی صلاحیت کو کنٹرول کرتے ہیں۔
مشت زنی کرنے والا شخص آہستہ آہستہ ایک ”زومبی“ (Zombie) بن جاتا ہے۔ اس کی ہمت، اس کا عزم، اس کی آنکھوں کی چمک اور اس کے چہرے کا نور ختم ہو جاتا ہے۔
سائنس اسے ”Supernormal Stimulus“ کا نام دیتی ہے۔ یعنی آپ اپنے دماغ کو پکسلز اور اسکرین کی صورت میں ایک ایسی ”جھوٹی دنیا“ کا عادی بنا رہے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
آپ کا دماغ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس ہزاروں عورتیں ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ ایک بند کمرے میں تنہا بیٹھا اپنی زندگی برباد کر رہا ہے۔
یہاں ایک اور خوفناک اور لرزہ خیز سائنسی حقیقت ”PIED“ (Porn-Induced Erectile Dysfunction) کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
آج کل کے بیس بائیس سال کے صحت مند نوجوان شادی کی پہلی رات ہی ناکام ہو رہے ہیں۔
کیوں؟
اس لیے نہیں کہ ان میں کوئی جسمانی نقص ہے یا وہ نامرد ہیں، بلکہ اس لیے کہ ان کا دماغ ”اسکرین“ کی تیز رفتار ایڈیٹنگ اور ”ہاتھ“ کے تیز رفتار اور غیر فطری رگڑ کا عادی ہو چکا ہے۔
ایک حقیقی عورت کا لمس، اس کی جذباتی قربت، اس کی خوشبو ان کے دماغ کو وہ ”ڈوپامائن کک“ نہیں دے پاتی جو 4K ویڈیو دیتی ہے۔یہ ان کی ”مردانگی کا نفسیاتی قتل“ ہے۔
اب ذرا الہیات کی طرف واپس آئیں اور قرآن کا اعجاز دیکھیں۔
قرآن نے سورۃ المومنون میں کامیاب لوگوں کی نشانی بتائی:
”وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ“
(اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے)۔
اور جو اس سے آگے بڑھے، اسے قرآن نے ”عادون“ (حد سے بڑھنے والا/Transgressor) کہا۔ قرآن نے اسے صرف ”گناہ“ نہیں کہا، اسے ”حد سے تجاوز“ کہا۔
اور آج سائنس بتا رہی ہے کہ یہ واقعی حد سے تجاوز ہے کیونکہ آپ اپنے دماغ کے نیورو کیمیکلز کو ان کی قدرتی حد سے باہر نکال کر ضائع کر رہے ہیں۔ وہ ”ٹیسٹوسٹیرون“ جو آپ کو باہر جا کر دنیا فتح کرنے، رزق کمانے، پہاڑ توڑنے اور تہذیبیں بنانے کے لیے دیا گیا تھا، آپ نے اسے باتھ روم کی نالی میں بہا کر ضائع کر دیا۔
یہ محض ”مادہِ حیات“ کا ضیاع نہیں، یہ آپ کی ”تقدیر“ اور آپ کے ”مستقبل“ کا ضیاع ہے۔
اس تاریک اور لیس دار سرنگ میں مزید آگے بڑھیں تو ہم اس گہرے گڑھے میں گرتے ہیں جسے ”زنا“ (Zina) کہتے ہیں۔
لبرل ازم اور سیکولر اخلاقیات کا سب سے بڑا نعرہ ہے:
”میرا جسم، میری مرضی۔ اگر دو بالغ افراد باہمی رضا مندی سے تعلق قائم کرتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے؟ ریاست یا مذہب کو اس میں دخل دینے کا کیا حق ہے؟“
یہ جملہ سننے میں بہت منطقی، بہت منصفانہ اور بہت جدید لگتا ہے، لیکن جب ہم اسے نیورو بائیولوجی کی لیبارٹری میں لے جاتے ہیں اور مائیکروسکوپ کے نیچے رکھتے ہیں تو یہ جملہ انسانی فطرت کے خلاف ایک اعلانِ جنگ نظر آتا ہے۔
انسان کوئی جانور نہیں ہے کہ ادھر منہ مارا اور ادھر نکل گیا، نہ ہی اس کا جسم کوئی مشین ہے جسے استعمال کر کے رکھ دیا جائے۔
انسان کے اندر اللہ نے ایک انتہائی پیچیدہ ”بانڈنگ سسٹم“ (Bonding System) رکھا ہے۔
جب ایک مرد اور عورت جسمانی تعلق قائم کرتے ہیں، تو ان کے دماغ میں دو طاقتور اور جادوئی ہارمونز خارج ہوتے ہیں:
”آکسیٹوسن“ (Oxytocin) اور ”ویسوپریسن“ (Vasopressin)۔
سائنسدان آکسیٹوسن کو ”Cuddle Hormone“، ”محبت کا مالیکیول“ یا ”وفاداری کا کیمیکل“ کہتے ہیں۔ یہ وہ قدرتی گلو (Glue) ہے جو دو روحوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ قدرت کا نظام یہ ہے کہ آپ جس کے ساتھ جسم ملائیں، اس کے ساتھ آپ کا دل بھی جڑ جائے، تاکہ آپ مل کر بچے کی پرورش کر سکیں اور ایک خاندان بنا سکیں۔
لیکن جب ایک شخص ”زنا“ کرتا ہے، یعنی وہ آج ایک عورت کے ساتھ ہے، کل دوسری کے ساتھ، پرسوں تیسری کے ساتھ، اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، تو اس کے اندر کیا ٹوٹتا ہے؟
نیورو سائنس بتاتی ہے کہ اس کا دماغ کنفیوز ہو جاتا ہے۔ بار بار مختلف اور بدلتے ہوئے پارٹنرز کے ساتھ آکسیٹوسن کا اخراج اس کے دماغ کے ریسیپٹرز کو ”Desensitize“ (بے حس) کر دیتا ہے۔
اس کیفیت کو سائنس ”Pair Bonding Damage“ کہتی ہے۔ یعنی ایسا شخص رفتہ رفتہ اس صلاحیت سے ہی محروم ہو جاتا ہے کہ وہ کسی ایک انسان کے ساتھ گہرا، جذباتی، روحانی اور دیرپا تعلق قائم کر سکے۔
زانی صرف گناہگار نہیں ہوتا، وہ ”نفسیاتی طور پر معذور“ ہو جاتا ہے۔ اسے سکون ملنا بند ہو جاتا ہے۔ وہ ہوس کی آگ میں جلتا رہتا ہے، ایک جسم سے دوسرے جسم تک بھاگتا ہے، مگر اس کی پیاس نہیں بجھتی کیونکہ اس کا ”روحانی برتن“ چھلنی ہو چکا ہوتا ہے۔
قرآن نے جب زنا کے بارے میں کہا:
”وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا“
(اور زنا کے قریب بھی مت جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے)،
تو اس نے ”ساء سبیلا“ (Evil Path) کہہ کر اسی نفسیاتی اور سماجی تباہی کی طرف اشارہ کیا تھا۔
یہ وہ راستہ ہے جو انسان کو تنہائی، ڈپریشن اور وجودی کرب (Existential Crisis) کے اندھیروں میں لے جاتا ہے۔
اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ زنا آپ کے ڈی این اے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ایپی جینیٹکس (Epigenetics) کی جدید تحقیق بتاتی ہے کہ آپ کے اعمال، آپ کا تناؤ، آپ کی جنسی عادات اور آپ کے گناہ آپ کے جینز کے ”ایکسپریشن“ (Expression) کو بدل دیتے ہیں۔
اگر آپ زنا کے عادی ہیں، تو آپ اپنے ہونے والے بچے کو وراثت میں ایک ”بے چین روح“، ”ہوس زدہ مزاج“ اور ”کمزور قوتِ ارادی“ منتقل کر رہے ہیں۔
کیا یہ اپنی نسلوں پر ظلم نہیں ہے؟
اور اب ہم آتے ہیں اس موضوع کی طرف جو آج کل مغرب کا سب سے بڑا ”مقدس گائے“ اور سب سے زیادہ متنازع اور حساس ایشو ہے:
”ہم جنس پرستی“ (Homosexuality)!
مغرب نے پوری دنیا کو، اقوام متحدہ کے ذریعے، میڈیا کے ذریعے اور نصاب کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ”Gay is Okay“ اور یہ لوگ ”ایسے ہی پیدا ہوتے ہیں“ (Born this Way)۔
یہ جھوٹ اتنا تواتر سے، اتنی شدت سے اور اتنے یقین سے بولا گیا کہ اب یہ سچ لگنے لگا ہے۔
لیکن آئیے جذبات سے ہٹ کر ذرا سائنس کی تازہ ترین اور بڑی رپورٹس دیکھیں۔
2019 میں Science Magazine میں ایک تحقیق شائع ہوئی جو تاریخ کی سب سے بڑی اور جامع جینیاتی تحقیق تھی جس میں 5 لاکھ لوگوں کا ڈی این اے شامل تھا۔
اس کا نتیجہ کیا تھا؟
نتیجہ مغرب کے بیانیے کے منہ پر طمانچہ تھا۔ تحقیق نے واشگاف الفاظ میں کہا: ”There is no single gay gene“۔
سائنسدانوں نے واضح کر دیا کہ ایسا کوئی جین نہیں ہے جو انسان کو پیدائشی طور پر ہم جنس پرست بنا دے۔
یہ رویہ جینیاتی مجبوری نہیں، بلکہ ماحولیاتی اثرات، بچپن کے ٹراما، نفسیاتی الجھنوں اور ہارمونل عدم توازن کا پیچیدہ نتیجہ ہے۔
ارتقائی سائنس (Evolutionary Biology) کے ٹریک پر دیکھیں تو ہم جنس پرستی ایک ”Dead End“ (بند گلی) ہے۔
ارتقاء کا بنیادی مقصد، جیسا کہ ڈارون بھی کہتا ہے، ”بقا“ (Survival) اور ”افزائشِ نسل“ (Reproduction) ہے۔
ہم جنس پرستی اس بنیادی مقصد کی کھلی نفی ہے۔ اگر پوری انسانیت ہم جنس پرست ہو جائے تو ایک صدی کے اندر انسان کا نام و نشان روئے زمین سے مٹ جائے گا۔
فطرت (Nature) کبھی بھی ایسے رویے کو سپورٹ نہیں کرتی، اسے پروموٹ نہیں کرتی جو اس کی اپنی بقا کے خلاف ہو۔
طبی اعتبار سے دیکھیں تو امریکہ کے CDC (Center for Disease Control) کے اعداد و شمار، جو کسی مولوی نے نہیں لکھے، چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ہم جنس پرست مردوں (MSM) میں ایچ آئی وی (HIV)، آتشک (Syphilis) اور مقعد کے کینسر (Anal Cancer) کی شرح عام آبادی کے مقابلے میں کئی سو گنا زیادہ ہے۔
یہ فطرت کا انتقام ہے، یہ بائیولوجی کی بغاوت ہے۔
اب الہیات کے ٹریک کو دیکھیں۔
قرآن نے قومِ لوط کے عمل کو ”فاحشہ“ کہا اور فرمایا:
”أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ“
(کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو؟)۔
اللہ نے اسے ”فطرت کے خلاف بغاوت“ قرار دیا۔
قرآن نے ایک اور اہم نکتہ اٹھایا کہ تم نے وہ کام کیا جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا، یعنی یہ ”ایجاد شدہ برائی“ تھی، پیدائشی مجبوری نہیں تھی۔
یہاں سائنس اور مذہب بالکل ایک پیج پر کھڑے نظر آتے ہیں۔
سائنس کہتی ہے یہ ”بائیولوجیکل ایرر“ اور ”ارتقائی خودکشی“ ہے، اور مذہب کہتا ہے یہ ”روحانی خودکشی“ اور ”حدود اللہ کی پامالی“ ہے۔ دونوں متفق ہیں کہ یہ نارمل نہیں ہے، یہ انحراف ہے۔
اب ان تمام بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک حتمی تصویر (Synthesis) دیکھتے ہیں اور اس فکری سفر کا حاصل نکالتے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ جسے آج کا انسان ”آزادی“ سمجھ رہا ہے، وہ دراصل اس کی بدترین ”غلامی“ ہے۔ وہ اپنے ہی دماغ کے کیمیکلز (ڈوپامائن) کا غلام بن چکا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کر رہا ہے، لیکن دراصل وہ بڑی بڑی کارپوریشنز (پورن انڈسٹری، ڈیٹنگ ایپس، فیشن انڈسٹری) کا کٹھ پتلی تماشا بنا ہوا ہے جو اس کی ہوس کو کیش کر کے اربوں ڈالر کما رہی ہیں۔
میرا استدلال یہ ہے کہ سائنس اور مذہب دو الگ الگ زبانوں میں، دو مختلف زاویوں سے، بالکل ایک ہی بات کر رہے ہیں۔
سائنس (Left Track) آپ کو خبردار کر رہی ہے کہ اگر آپ نے زنا، مشت زنی، بدنظری یا ہم جنس پرستی کی، تو آپ کا ”ہارڈویئر“ (یعنی آپ کا دماغ، آپ کے اعصاب، آپ کے ہارمونز، آپ کا ڈی این اے) کریش ہو جائے گا۔ آپ ڈپریشن، انزائٹی، بانجھ پن اور جنسی کمزوری کا شکار ہو جائیں گے۔ سائنس آپ کو ”دنیاوی نقصان“ (Harm) سے ڈرا رہی ہے۔
مذہب (Right Track) آپ کو خبردار کر رہا ہے کہ ان اعمال سے آپ کا ”سافٹ ویئر“ (یعنی آپ کی روح، آپ کا ایمان، آپ کا سکونِ قلب، آپ کی آخرت) کرپٹ ہو جائے گا۔ آپ اللہ کی رحمت سے دور اور شیطان کے قریب ہو جائیں گے۔ مذہب آپ کو ”اخروی احتساب“ (Accountability) سے ڈرا رہا ہے۔
انسان کی عظمت، اس کی انسانیت اس میں نہیں ہے کہ وہ ہر اس خواہش کے پیچھے کتے کی طرح بھاگے جو اس کے دماغ میں ابھرتی ہے۔ جانور کے اندر بھی شہوت ہے، انسان کے اندر بھی ہے۔
لیکن فرق یہ ہے کہ جانور کے پاس ”بریک“ نہیں ہے، انسان کے پاس اللہ نے ”Prefrontal Cortex“ (دماغ کا اگلا حصہ) رکھا ہے جو اسے روکنے، سوچنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، اور اسی بریک کو قرآن ”تقویٰ“ کہتا ہے۔
یہ جو پابندیاں اسلام نے لگائی ہیں, کہ اپنی نظر نیچی رکھو، زنا کے قریب نہ جاؤ، قومِ لوط کے عمل سے بچو، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو, یہ کوئی آپ کو ”لطف“ سے محروم کرنے کے لیے نہیں ہیں، یہ آپ کو اذیت دینے کے لیے نہیں ہیں، بلکہ یہ آپ کی اس قیمتی مشینری کے ”Safety Protocols“ ہیں۔
جیسے گاڑی کے مینوئل میں لکھا ہوتا ہے کہ ”اس پیٹرول انجن میں ڈیزل مت ڈالنا ورنہ انجن سیز ہو جائے گا“، ویسے ہی خالق نے قرآن کے مینوئل میں لکھ دیا ہے کہ ”اس انسانی جسم میں زنا اور حرام کاری کا ایندھن مت ڈالنا ورنہ تمہاری روح سیز ہو جائے گی اور تمہارا دماغ بیکار ہو جائے گا۔“
آج کے نوجوان کے پاس دو راستے ہیں، اور انتخاب اسے خود کرنا ہے۔ یا تو وہ لبرل ازم کے کھوکھلے نعروں کے پیچھے لگ کر اپنی جوانی، اپنی طاقت، اپنی صلاحیت اور اپنا سکون برباد کر لے اور چالیس سال کی عمر میں ایک ایسا ”کھوکھلا وجود“ بن کر رہ جائے جو نہ کسی سے وفاداری کر سکتا ہے، نہ خود سے مطمئن ہے، اور نہ ہی کسی عظیم مقصد کے قابل ہے۔
یا پھر وہ اس ”یونیورسل ٹروتھ“ کو تسلیم کر لے کہ اس کا جسم اس کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہے۔ وہ اپنی عفت کی حفاظت کرے، اپنی نظروں کو قابو میں رکھے، اپنی شہوت کو صرف ”نکاح“ کے حلال اور پاکیزہ راستے پر خرچ کرے اور اپنی توانائی کو تسخیرِ کائنات میں لگائے۔
یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان ”اشرف المخلوقات“ بنتا ہے، ورنہ ”اسفل السافلین“ (جانوروں سے بدتر) کا گہرا اور تاریک گڑھا اس کا منتظر ہے۔
فیصلہ آپ کا ہے، کیونکہ اختیار (Free Will) اللہ نے آپ کے ہاتھ میں دیا ہے، مگر یاد رکھیے، نتائج (Consequences) آپ کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔
فطرت اپنے مجرم کو کبھی معاف نہیں کرتی، وہ اپنا بدلہ لیتی ہے، اور خدا اپنے باغی کو چھوڑتا نہیں، جب تک وہ سچی توبہ نہ کر لے۔
