جب انسان شعور کی وادی میں قدم رکھتا ہے اور تحقیق کے خاردار راستوں کا مسافر بنتا ہے، تو اسے سب سے پہلے جس چیز کی قربانی دینی پڑتی ہے، وہ اس کا اپنا ”سکون“ ہے۔
یہ راستہ پھولوں کی سیج نہیں، بلکہ انگاروں کا بستر ہے جہاں ہر قدم پر ایک نیا سوال سانپ بن کر ڈستا ہے اور ہر جواب ایک نئی پہیلی بن کر سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔
میں نے جب سے قلم تھاما ہے، میں نے کبھی سہولت پسندی کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
میرا مقصد کبھی بھی واہ واہ سمیٹنا یا سوشل میڈیا کی سستی شہرت حاصل کرنا نہیں رہا، بلکہ میرا سفر اس ”کھوج“ کا سفر ہے جو انسان کو اپنی ذات کے عرفان سے لے کر کائنات کے سربستہ رازوں تک لے جاتا ہے۔
آج میں اپنے قارئین، اپنے ناقدین، اور ان تمام خاموش مشاہدہ کرنے والوں سے مخاطب ہوں جو میری تحریروں کو پڑھتے ہیں، پرکھتے ہیں، اور بسا اوقات الجھ جاتے ہیں۔
یہ کوئی صفائی نامہ نہیں ہے، کیونکہ سچ کو صفائی کی ضرورت نہیں ہوتی، اور نہ ہی یہ کوئی منت ترلہ ہے، کیونکہ وقار کا سودا قلم کے مزدور کو زیب نہیں دیتا۔
یہ صرف ایک ”مکالمہ“ ہے, ایک ایسا مکالمہ جو میرے اور آپ کے درمیان حائل دھند کو چھانٹنے کی کوشش ہے۔
میں نے جن موضوعات کو آج تک قلمبند کیا ہے، خواہ وہ انسانی نفسیات کی پیچیدہ گتھیاں ہوں، کائنات کی وسعتوں میں چھپے بلیک ہولز کے راز ہوں، یا انسانی ارتقاء اور الہیات کا نازک سنگم ہو، میری ہمیشہ یہ شعوری اور غیر شعوری کوشش رہی ہے کہ حتی الوسع، حتی الامکان اور حتی المقدور ہر بات کا جواب اور ہر اشکال کی وضاحت انہی تحریری سلسلوں میں دے دوں جو میں باقاعدہ لکھ رہا ہوتا ہوں۔
میرا ماننا ہے کہ ایک مصنف کی تحریر بذاتِ خود اس کا سب سے بڑا وکیل ہوتی ہے۔ اگر تحریر کو سمجھانے کے لیے مصنف کو الگ سے تشریحات کا دفتر کھولنا پڑے تو یہ تحریر کا نقص ہے۔
لیکن یہاں ایک عملی مجبوری آڑے آتی ہے جسے سمجھنا ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو علم کی گہرائی کا ادراک رکھتا ہے۔
علم، خاص طور پر جدید سائنسی علم، اردو زبان میں تخلیق نہیں ہوا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج دنیا کا 99 فیصد جدید علم انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی، جرمن, چائنیز یا روسی زبانوں میں مدون ہو رہا ہے۔
جب میں رات کے پچھلے پہر اپنی لائبریری میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر نیورو سائنس، کوانٹم فزکس، یا ارتقائی حیاتیات پر مشتمل پیچیدہ تحقیقی مقالے (Research Papers) اور کیس اسٹڈیز تلاش کرتا اور پڑھتا ہوں، تو وہ مواد اکثر ان زبانوں میں ہوتا ہے جن کی اصطلاحات کا اردو میں کوئی نعم البدل سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
مجھے یہ بات ماننے میں کوئی عار نہیں، اور نہ ہی یہ کوئی کمزوری ہے، کہ جب مجھے انگریزی، ہسپانوی، فرنچ, جرمن, چائنیز یا روسی زبانوں میں موجود ان ثقہ تحقیقاتی پیپرز اور اسٹڈیز سے اخذ کردہ مواد یا دلیل کا اردو میں ترجمہ کرنا پڑتا ہے، تو مجھے ایک ”تخلیقی پلِ صراط“ سے گزرنا پڑتا ہے۔
میرا ہدف وہ یونیورسٹی کا پروفیسر نہیں ہوتا جو پہلے سے ان اصطلاحات سے واقف ہے، بلکہ میرا ہدف وہ عام فہم قاری، وہ گاؤں کا نوجوان، وہ گھریلو خاتون اور وہ طالب علم ہوتا ہے جس کی رسائی ان علوم تک نہیں ہے۔
اس ”عام فہم زبان“ میں منتقلی کے دوران بعض اوقات الفاظ کی شدت اور حدت ایک ایسے ابہام کو جنم دیتی ہے جو قاری کے ذہن میں سوالات کا طوفان کھڑا کر دیتا ہے۔
سائنس کی خشک اور بے رحم منطق کو جب اردو کے لٹریچر کا جامہ پہنایا جاتا ہے تو بعض دفعہ مفہوم کے کنارے گھس جاتے ہیں۔
اسی ابہام کو دور کرنے کے لیے میں اپنی تحاریر میں کثرت سے ”بریکٹ“ کا استعمال کرتا ہوں اور مشکل سائنسی حقائق کو سمجھانے کے لیے ”استعاروں“ (Metaphors) کا سہارا لیتا ہوں۔
میں مثالیں دیتا ہوں، کہانیاں گھڑتا ہوں، اور تشبیہات لاتا ہوں تاکہ بات پانچویں پاس قاری کے دل میں بھی اتر جائے اور پی ایچ ڈی ہولڈر کی علمی پیاس بھی بجھ جائے، اور کسی کو کوئی ابہام نہ رہے۔
لیکن، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان کی بنائی ہوئی ہر چیز، چاہے وہ کتنی ہی مہارت سے کیوں نہ تراشی گئی ہو، ”نقص“ سے پاک نہیں ہو سکتی۔
اتنی احتیاط، اتنی وضاحت اور اتنی عرق ریزی کے باوجود تضاد اور اعتراضات بہرحال رہ جاتے ہیں۔
اور کیوں نہ رہیں؟
ایک تو میں بندہ بشر ہوں، کوئی فرشتہ نہیں جس سے غلطی سرزد نہ ہو سکے، اور دوم، میں کوئی مشین یا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) نہیں ہوں کہ ہر دفعہ سو فیصد ایکوریٹ، پرفیکٹ اور جذبات سے عاری کیلکولیٹڈ جواب دوں۔
میرے قلم سے نکلنے والا ہر لفظ میرے اپنے فہم، میرے اپنے وجدان اور میری اپنی تحقیق کا نچوڑ ہوتا ہے، اور انسانی فہم ہمیشہ ”ارتقاء پذیر“ رہتی ہے۔ جو بات مجھے کل درست لگتی تھی، ہو سکتا ہے مزید تحقیق کے بعد آج اس میں مجھے کوئی کمی نظر آئے، اور یہی زندگی کی علامت ہے۔
ان تحقیقی تحاریر سے میرا ایک مقصد، اور واحد مقصد، عام فہم زبان میں اپنے ”مافی الضمیر“ کے ذریعے متعلقہ مسائل و معاملات کی سنگینی کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔
میں یہاں کوئی علمی دھاک بٹھانے نہیں آیا، نہ ہی مجھے کسی ”دانشورِ اعظم“ کا تمغہ چاہیے، اور نہ ہی میں کوئی مفتی ہوں جو حتمی و قطعی فتویٰ جاری کرے۔ ایسا میرے پاس نہ کوئی شرعی اختیار ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی منصب۔
میں صرف ایک ”تشخیص کنندہ“ (Diagnostician) ہوں جو سماج، سائنس اور مذہب کی نبض پر ہاتھ رکھ کر یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ
”دیکھو! یہاں کچھ گڑبڑ ہے“۔
ماننا یا نہ ماننا، علاج کرنا یا نہ کرنا، یہ قاری کا اپنا اختیار ہے۔
اس علمی سفر میں جہاں ہزاروں محبت کرنے والے، دعا دینے والے اور سنجیدہ نقد کرنے والے دوست ملے، وہیں کچھ ایسے عناصر بھی سامنے آئے جو ہر دور میں سچ کی راہ میں کانٹے بچھاتے ہیں۔ کچھ لوگ آتے ہیں، فیک آئی ڈیز کے پیچھے۔
گمنام چہروں اور غیر انسانی ناموں کے ساتھ، جن کا مقصد مکالمہ نہیں بلکہ محض دشنام طرازی ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دلیل کے میدان میں نہتے ہیں، اس لیے وہ گالی اور بہتان کی ڈھال استعمال کرتے ہیں۔ یہ بجز بیہودہ و یاوہ گوئی اور الزامی تبصروں کے اور کچھ نہیں کرتے۔ ان کا کام صرف کیچڑ اچھالنا ہے تاکہ شاید اس طرح وہ قد آور نظر آ سکیں۔
ان میں سے اکثر کا ایک مشترکہ، رٹا رٹایا اور پسندیدہ تبصرہ ہوتا ہے کہ
”یہ تحریر اے آئی (AI) سے لکھوائی گئی ہے، یہ خیانت ہے“۔ وغیرہ وغیرہ
اور حد تو یہ ہے کہ اکثر کسی نہ کسی اور مصنف یا محقق کا نام لے کر کہتے ہیں کہ آپ ان کا کام ردوبدل کے بعد اپنے نام سے شیئر کر رہے ہیں۔
میں آج ان دونوں الزامات کی حقیقت، بلکہ ان ”تمہتوں“ کی قلعی کھولنا چاہتا ہوں، کسی غصے سے نہیں، بلکہ حقائق کی روشنی میں۔
جو لوگ میری تاریخ سے واقف ہیں، جو میرے فکری سفر کے عینی شاہد ہیں، وہ جانتے ہیں کہ میں کل کا پیدا ہوا لکھاری نہیں ہوں۔
میں 2008 سے باقاعدہ لکھنے لکھانے کے عمل سے جڑا ہوا ہوں، جبکہ تحقیق، مطالعہ اور مشاہدے کا یہ جنون 2006 سے میرے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے ہے۔
میں نے باقاعدہ لکھنا تو 2006 میں ہی شروع کیا تھا، اپنی ڈائریوں میں، اخبارات کے مراسلوں میں، مجلات و رسائل میں لیکن فیس بک اور سوشل میڈیا پر یہ سلسلہ 2008 سے شروع ہوا جب ابھی سوشل میڈیا اپنی طفولیت میں تھا۔
وہ لوگ جو میرے ابتدائی زمانے سے منسلک ہیں، وہ گواہ ہیں کہ میں کب سے، کیسا، اور کتنا لکھتا ہوں اور کیوں لکھتا ہوں؟
میرے اسلوب، میرے الفاظ کے چناؤ اور میرے جملوں کی ساخت میں ایک ایسا ”ارتقائی تسلسل“ ہے جسے کوئی بھی ذی شعور انسان دیکھ سکتا اور محسوس کرسکتا ہے۔
میں نے 2008 سے لے کر 2024 تک، یعنی سولہ سال متواتر، بغیر کسی طویل ناغے کے، مختلف النوع موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔
میں نے عالمی و ملکی سیاست کی پیچیدگیوں پر لکھا، میں نے سماجی رویوں کے ناسوروں پر نشتر چلائے، میں نے اپنی ذاتی پسند و ناپسند کا بے لاگ اظہار کیا، اور تاریخ کے گمشدہ ابواب کو کھنگالا۔
یہ سولہ سال کی ریاضت کسی ”سافٹ ویئر“ کی محتاج نہیں تھی۔
لیکن اب، زندگی کے اس موڑ پر، میں نے ایک شعوری فیصلہ کیا ہے۔ جس موضوع پر اب میں مستقلا، اور ان شاء اللہ ”تادمِ مرگ“ لکھنے کا ارادہ باندھ چکا ہوں یعنی سائنس، الہیات اور انسانی شعور کا سنگم یہ کوئی ایسا موضوع نہیں تھا جس پر میں نے جذباتی ہو کر قلم اٹھا لیا ہو۔
یہ موضوع اس بات کا متقاضی تھا کہ میں برسوں تک پڑھوں، لائبریریوں کی خاک چھانوں، تحقیق کے سمندر میں غوطہ لگاؤں، اور راتوں کو جاگ کر غور و فکر کروں۔
جب مجھے اتنا اعتماد ہو گیا کہ اب میں قابلِ قبول، مدلل اور منطقی بات لکھ اور بول سکتا ہوں، تب میں اس میدان میں ”آن وارد“ ہوا۔
میری تحریر کا موجودہ معیار، اس کی طوالت، اس کی گہرائی اور اس میں موجود تحقیق کا عنصر کوئی حادثہ یا مصنوعی پیداوار نہیں، بلکہ یہ اول دن سے میری تحریر کا خاصہ رہا ہے۔
میں نے جس بھی موضوع پر لکھا، سیاست ہو یا سائنس، ہمیشہ ایسا ہی لکھا, تفصیلی، جاندار اور حوالہ جات سے مزین۔
جہاں تک بات ہے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی، تو بیشک آج کل بہت سے لوگ اے آئی سے یہ کام اور دیگر کام لیتے ہوں گے، سہولت پسندی کا دور ہے۔
لیکن میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اے آئی، اپنی تمام تر جدیدیت اور الگورتھمز کے باوجود، انسانی زبان کی چاشنی اور انسانی جذبات کی تپش کو فی الحال بیان کرنے سے قاصر ہے۔
آپ جتنا بھی زور لگا لیں، مشین کی تخلیق میں وہ ”درد“، وہ ”کرب“، وہ ”تڑپ“ اور وہ ”انسانی نفسیات“ شامل نہیں کی جا سکتی جو ایک گوشت پوست کے انسان کے دل سے نکلتی ہے۔
اے آئی معلومات دے سکتی ہے، مگر ”شعور“ نہیں دے سکتی۔
وہ جملے جوڑ سکتی ہے، مگر ”کہانی“ نہیں بن سکتی۔
اس کی تحریر میں ایک مشینی ٹھنڈک ہوتی ہے، جبکہ میری تحریر میں آپ کو میرے لہو کی گرمی محسوس ہوگی۔
میں اے آئی کا منکر اور مخالف نہیں ہوں، میں اسے ایک ”ٹول“ (Tool) کے طور پر استعمال کرتا ہوں، اور اس کے اعتراف میں مجھے کوئی جھجھک نہیں۔
میں اس کا استعمال گرافکس اور آرٹ ورک تخلیق کروانے کے لیے کرتا ہوں تاکہ میرے الفاظ کو ایک بصری پیکر مل سکے۔
میں اسے اپنی ریسرچ کو ویریفائی کرنے، متعلقہ تحقیقات (Research Papers) کو تیزی سے تلاش کرنے، یا کسی کتاب کا حوالہ ڈھونڈنے کے لیے استعمال کرتا ہوں, بالکل اسی طرح جیسے ہم گوگل سرچ، وکی پیڈیا، سائنسی جرنلز، میگزینز اور عالمی آن لائن لائبریریز کا استعمال کرتے ہیں۔
میرے لیے یہ ایک ”سورس آف انفارمیشن“ ہے باقی سورسز کی طرح، ”سورس آف کری ایشن“ نہیں۔
میں اے آئی سے تحریر نہیں لکھواتا۔ یہ میری توہین ہے اور میرے قلم کی حرمت کے خلاف ہے۔
میری ٹون (Tone)، میرا لب و لہجہ، میرا جارحانہ اور بے باک اسٹائل، میرا مخصوص فارمیٹ اور دیگر تحریری عناصر اول دن سے، جب اے آئی کا نام و نشان بھی نہیں تھا، ”سگنیچرڈ“ (Signatured) اور یونیک ہیں۔
اے آئی کو ابھی پیدا ہوئے بمشکل تین چار سال ہوئے ہیں، جبکہ میرا اسلوب پچھلے دو دہائیوں سے پختہ ہو رہا ہے۔ (میں چاہوں گا کہ میرے پرانے چاہنے والے اور دوست اس بابت اپنی گواہی ضرور کمنٹ باکس میں دیں۔)
ایک اور منطقی بات جو ناقدین کو سمجھنی چاہیے:
اگر میں اے آئی سے لکھواتا تو میری تحریریں ”پرفیکٹ“ ہوتیں، ان میں تضاد نہ ہوتا، ان میں جذباتی اتار چڑھاؤ نہ ہوتا۔
کیونکہ اے آئی تو ایک ”محفوظ“ اور ”بیلنسڈ“ جواب دیتی ہے۔ اگر میں اس سے لکھواتا تو ملحدین و لبرلز ناقدین کو اعتراض کے لیے کچھ نہیں ملنا تھا، وہ میری غلطیاں نہیں نکال سکتے تھے اور بس سینہ کوبی کرتے رہ جاتے۔
جبکہ جو میں لکھتا ہوں، چونکہ وہ ایک انسان کی کاوش ہے، اس میں لبرل ملحدین ہی کیا، میرے اپنے مولوی و مذہبی دوستوں اور عام سوچنے والے قارئین کو بھی کمیاں، کجیاں، اور غلطیاں مل ہی جاتی ہیں۔
یہی غلطیاں اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہیں کہ یہ تحریر کسی ”مشین“ کی نہیں، بلکہ ایک ”انسان“ کی ہے جو سیکھ رہا ہے، غلطی کر رہا ہے، اور پھر سچ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
لہٰذا یہ اعتراض کہ
”اے آئی سے لکھوایا ہے“،
بس ایک اعتراض برائے اعتراض ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
خیر، بات کو سمیٹتے ہوئے، جاتے جاتے میں ایک عام سی، مگر انتہائی گہری مثال دینا چاہتا ہوں تاکہ شاید میری بات مکمل طور پر کلیئر ہو سکے اور یہ بحث ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔
ذرا غور کیجیے!
قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ کا متن پچھلے چودہ سو سال سے ایک ہی ہے۔ ایک حرف، ایک زیر زبر کا فرق نہیں آیا۔۔۔ ایسا ہی ہے نا؟
یہ ایک ”یونیورسل ٹروتھ“ ہے۔
لیکن ذرا دوسری طرف دیکھیے۔
ان ہی اٹل اور غیر مبدل نصوص کے تراجم، ان کی تفاسیر اور ان کی شرحیں آپ کو ان گنت مل جائیں گی۔ ہر مکتبہ فکر کی اپنی تفسیر ہے، ہر عالم کا اپنا زاویہ نگاہ ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سبھی تراجم و تفاسیر مستعمل ہیں، لوگ ان سے رہنمائی لیتے ہیں۔
لیکن انہی تراجم اور تشریحات میں انسانی فہم کے اختلاف کی بدولت امت میں 72 یا 73 فرقے جنم لے چکے ہیں۔
ان فرقوں میں چھوٹے موٹے فروعی اختلافات سے لے کر 180 ڈگری الٹ تضادات تک موجود ہیں۔
ایک گروہ جسے توحید کہتا یا سمجھتا ہے، دوسرا اسے شرک کہہ اور سمجھ رہا ہوتا ہے۔
لیکن اس کے باوجود، امت بحیثیتِ مجموعی ”اجماع کی رسی“ کا استعمال کرتی ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، حج اکٹھے کرتے ہیں، اور ”بینیفٹس آف ڈاؤٹ“ (Benefit of Doubt) کا سہارا لے کر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
وہ جانتے ہیں کہ متن الہی ہے، مگر سمجھنے والا انسان ہے، اور انسان سے چوک ہو سکتی ہے۔
بس یہی معاملہ میری تحریروں کا بھی ہے۔ میں کوئی الہامی باتیں نازل نہیں کروا رہا۔ میں سائنس کے ”مشاہداتی حقائق“ اور الہیات کے ”آفاقی سچائیوں“ کے درمیان جو خلیج حائل ہو گئی ہے، اسے پاٹنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
الہیات و سائنسی علوم میں میری محنت صرف اور صرف ان ”مشترکات کی بریجنگ“ (Bridging of Commonalities) ہے۔
میرا مقصد یہ دکھانا ہے کہ خدا کا بنایا ہوا قانون (فطرت/سائنس) اور خدا کا اتارا ہوا کلام (وحی) آپس میں ٹکرا نہیں سکتے۔ اگر ٹکراؤ نظر آتا ہے تو وہ ہماری سمجھ کا پھیر ہے۔
میری حیثیت اس ”پل“ کے ایک معمار کی ہے جو دونوں کناروں کو جوڑنے کے لیے پتھر ڈھو رہا ہے۔ اس کوشش میں کبھی کوئی پتھر ٹیڑھا بھی لگ سکتا ہے، کبھی سیمنٹ کم بھی ہو سکتا ہے، لیکن میری نیت عمارت کھڑی کرنا ہے، اسے گرانا نہیں۔ میرا یہ کام اس سے کم بھی نہیں، اور اس سے زیادہ بھی نہیں۔
میں اپنے قارئین سے صرف اتنی گزارش کروں گا کہ جب آپ میری تحریر پڑھیں، تو اسے کسی مفتی کا فتویٰ یا کسی سائنسدان کی لیبارٹری رپورٹ سمجھ کر نہ پڑھیں، بلکہ اسے ایک ”دردِ دل رکھنے والے مفکر“ کی خود کلامی سمجھیں جو آپ کو بھی سوچنے کی دعوت دے رہی ہے۔
اگر آپ کو اس میں کوئی تضاد نظر آئے تو اسے میری ”بشریت“ پر محمول کریں، اور اگر کوئی سچائی دل میں اتر جائے تو اسے اللہ کی توفیق سمجھیں۔
میرا سفر جاری ہے، میرا قلم رواں ہے، اور جب تک سانس میں سانس ہے، میں سوال اٹھاتا رہوں گا، میں جواب ڈھونڈتا رہوں گا، اور میں ان دو دنیاؤں, مذہب اور سائنس کے درمیان کھڑا ہو کر صلح کا پرچم لہراتا رہوں گا۔
یہ میرا مشن ہے، یہ میری زندگی ہے، اور یہی میری پہچان ہے۔
