Tuesday, January 6, 2026

ازدواجی زندگی کی پہلی رات کا سائنسی، نفسیاتی اور الہیاتی مینی فیسٹو! - بلال شوکت آزاد

Bilal Shoukat Azad 0 تبصرے
ADVERTISEMENT In-Article Ad Slot

ہم ایک ایسے منافقانہ، تضادات سے بھرپور اور شیزوفرینک سماج میں سانس لے رہے ہیں جہاں ”سیکس“ کا لفظ زبان پر لانا ماں بہن کی گالی سمجھا جاتا ہے، مگر جہاں کی انٹرنیٹ ٹریفک کا سب سے بڑا حصہ، اور گوگل سرچ کے سب سے زیادہ ٹرینڈز فحش سائٹس اور خفیہ ویڈیوز پر مشتمل ہیں۔


ہم ایک ایسی تہذیب کا حصہ ہیں جہاں بیٹی کو رخصت کرتے وقت قرآن کے سائے سے گزارا جاتا ہے، اس کی آنکھوں میں حیا کے سرمے ڈالے جاتے ہیں، مگر اسے قرآن کے وہ حقوق اور وہ ”حیاتیاتی سچائیاں“ نہیں سکھائی جاتیں جو اس کی آنے والی زندگی کی بنیاد ہیں اور جن کے بغیر وہ قرآن کے سائے تلے بھی جہنم جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

دوسری طرف ہمارا نوجوان بیٹا، جو دوستوں کی بیہودہ محفلوں، گلی محلے کے نیم حکیموں اور انٹرنیٹ کی جھوٹی اور فریبی دنیا (Pornography) سے تربیت لے کر ”مرد“ بننے کی کوشش کر رہا ہے، اپنی زندگی کی پہلی اور نازک ترین رات کو، جو کہ سکون اور محبت کی رات ہونی چاہیے تھی، ایک ”جنگ کا میدان“ اور اپنی ”انا کی تسکین“ کا اکھاڑا سمجھ لیتا ہے۔ یہ وہ المیہ ہے جس نے ہمارے خاندانی نظام کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں، طلاق کی شرح کو آسمان پر پہنچا دیا ہے اور گھروں کو نفسیاتی مریضوں کا ہسپتال بنا دیا ہے۔

آج میں اس تاریک اور بند کمرے میں علم، تحقیق اور وحی کی شمع لے کر داخل ہوں گا جسے ہم نے ”سہاگ رات“ کا نام دے کر خوف، ہوس اور جہالت کی علامت بنا دیا ہے۔

آج ہم دیکھیں گے کہ مغرب کی ”مکینیکل سیکس ایجوکیشن“ اور مشرق کی ”مجرمانہ خاموشی“ کے درمیان اسلام کا وہ کون سا ”نورانی اور فطری راستہ“ ہے جو میاں بیوی کے تعلق کو ”عبادت“، ”صدقہ“ اور ”دائمی سکون“ بنا دیتا ہے۔

یہ تحریر ان تمام نوجوانوں کے لیے ایک ”احتیاطی تدبیر“ اور ”ہدایت نامہ“ ہے جو شادی کے مقدس بندھن میں بندھنے جا رہے ہیں، تاکہ وہ اپنی نسلوں کی بنیاد ”جہالت اور خوف“ پر نہیں، بلکہ ”علم اور محبت“ پر رکھ سکیں اور ان بھیانک غلطیوں سے بچ سکیں جو ان سے پہلے ہزاروں جوڑوں کی زندگیاں برباد کر چکی ہیں۔

کہانی کا آغاز دو انتہائی متضاد اور تباہ کن بیانیوں کے ٹکراؤ سے ہوتا ہے جنہوں نے آج کے نوجوان کے ذہن کو مفلوج کر رکھا ہے۔

ایک طرف مغرب اور اس کی اندھی تقلید ہے، جس نے سیکس کو محض ایک ”حیاتیاتی ضرورت“، ”جسمانی رگڑ“ (Friction) اور ”کیمیکل ریلیز“ بنا کر پیش کیا۔

وہاں اسکولوں میں کنڈوم کا استعمال اور اناٹومی تو بہت تفصیل سے سکھائی گئی، مگر اس عمل سے ”روحانیت“، ”تقدس“ اور ”وفا“ کو نکال باہر کیا گیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں جسم تو ملتے ہیں، مگر روحیں پیاسی رہتی ہیں، ڈپریشن کا سیلاب امڈ آتا ہے اور ہر دوسرا شخص تھراپسٹ کے پاس بیٹھا اپنے وجود کے خالی پن کا رونا رو رہا ہے۔

دوسری طرف ہمارا مشرقی اور روایتی معاشرہ ہے، جہاں سیکس کا نام لینا بھی بے حیائی اور گناہِ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔

یہاں لڑکے کو بچپن سے دوستوں اور بڑے کزنز کے ذریعے یہ زہریلا سبق سکھایا جاتا ہے کہ

”عورت کو قابو کرنا ہے تو پہلی رات شیر بن کر جانا، اسے اپنی طاقت دکھانا اور بلی مار دینا“ (رعب جمانا)،

اور معصوم لڑکی کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ

”شوہر جو بھی کرے، چاہے وہ جانور بن جائے، چاہے وہ تمہاری جان لے لے، تم نے اف نہیں کرنی، تم نے مزاحمت نہیں کرنی کیونکہ یہ تمہارا فرض ہے اور انکار کرنا گناہ ہے۔“

یہ دونوں انتہائیں غلط ہیں، یہ دونوں راستے تباہی کے ہیں اور یہ دونوں انسانی فطرت کے خلاف بغاوت ہیں۔

اسلام کا راستہ ان دونوں کے بیچ میں، اعتدال اور توازن کا راستہ ہے۔

اسلام نے جنسی عمل کو چھپایا نہیں، اسے ٹبّو (Taboo) نہیں بنایا، بلکہ اسے ”صدقہ“ (نیکی) اور ”اجر“ کا ذریعہ قرار دیا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

”تمہارے اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنے میں بھی صدقہ (ثواب) ہے۔“

صحابہ کرامؓ، جو اس وقت کے روایتی ذہن کے مالک تھے، انہوں نے حیرت سے پوچھا:

”یا رسول اللہ! ہم اپنی خواہش پوری کرتے ہیں، اپنی لذت حاصل کرتے ہیں اور اس پر بھی ثواب ملتا ہے؟“

آپ ﷺ نے ایک ایسی منطق پیش کی جو قیامت تک کے لیے مشعلِ راہ ہے، فرمایا:

”ہاں! مجھے بتاؤ اگر تم یہی خواہش حرام طریقے (زنا) سے پوری کرتے تو گناہ ہوتا یا نہیں؟ لہٰذا جب تم اسے حلال طریقے سے، اللہ کے حکم کے مطابق پوری کرتے ہو تو اس پر اجر ہے۔“

یہ وہ پہلا نفسیاتی گرہ ہے جسے کھولنا ہر نوجوان کے لیے ضروری ہے۔ ازدواجی تعلق کوئی ”گندا کام“ نہیں ہے جسے مجبوری میں کیا جائے، یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے کر کے غسلِ جنابت اس لیے کیا جائے کہ گندگی دھل جائے، بلکہ یہ ایک ”الہیاتی اور روحانی عمل“ ہے جو میاں بیوی کے درمیان محبت کا طاقتور ترین کیمیکل (آکسیٹوسن) پیدا کرتا ہے، انہیں ایک دوسرے کا لباس بناتا ہے اور شیطان کا راستہ روکتا ہے۔

اب ذرا تصویر کے اس بھیانک اور لرزہ خیز رخ کی طرف آئیں جو ہمارے نوجوان لڑکوں کے ساتھ ہو رہا ہے اور جو ہماری "خاموش ثقافت" کا شاخسانہ ہے۔

آج کا دولہا جب سجے سجائے کمرے میں داخل ہوتا ہے، تو اس کے ذہن میں اپنی بیوی کا خیال نہیں ہوتا، بلکہ وہ تمام غیر فطری، ایڈیٹ شدہ اور ہائی ڈیفینیشن (HD) مناظر گردش کر رہے ہوتے ہیں جو اس نے سالوں تک ”نیلی اسکرین“ (Pornography) پر دیکھے ہیں۔

اس کا دماغ ایک شدید ”پرفارمنس پریشر“ (Performance Pressure) کا شکار ہوتا ہے۔

دوستوں نے اسے ڈرایا ہوتا ہے کہ

”اگر پہلی رات ناکام ہو گئے، اگر ٹائمنگ کم ہوئی، اگر سختی نہ آئی تو زندگی بھر بیوی کے سامنے سر نہیں اٹھا سکو گے، وہ تمہیں نامرد سمجھے گی۔“

اس خوف، عدم تحفظ اور جہالت کے نتیجے میں وہ کیا کرتا ہے؟

وہ شادی سے چند گھنٹے پہلے کسی میڈیکل اسٹور کا رخ کرتا ہے یا کسی حکیم کی پڑیا کھاتا ہے۔

وہ ویاگرا (Sildenafil)، ٹائمنگ بڑھانے والے سپرے (Lidocaine Sprays) اور مختلف قسم کی نامعلوم جڑی بوٹیوں اور کُشتوں کا سہارا لیتا ہے۔

یہ ایک ”نیورولوجیکل اور فزیولوجیکل خودکشی“ ہے۔

میڈیکل سائنس چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ ایک صحت مند بیس پچیس سالہ نوجوان کو، جس کے ہارمونز (ٹیسٹوسٹیرون) عروج پر ہیں، جس کا دورانِ خون بہترین ہے، اسے کسی بیرونی دوا کی ضرورت سرے سے ہے ہی نہیں۔ اس کا جسم قدرتی طور پر اس عمل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

لیکن جب وہ ویاگرا جیسی ادویات لیتا ہے، تو وہ اپنے دل اور دورانِ خون کے نظام پر غیر ضروری اور خطرناک بوجھ ڈالتا ہے جس سے پہلی رات ہارٹ اٹیک تک کا خطرہ ہوتا ہے۔لیکن اس سے بڑا نقصان ”نفسیاتی“ ہے۔

جب وہ مصنوعی سہارے سے تعلق قائم کرتا ہے، تو اس کا دماغ اپنی قدرتی صلاحیت پر اعتماد کھو دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ اس گولی کے بغیر ”مرد“ نہیں ہے۔ اسے ”Psychological Impotence“ کہتے ہیں۔ وہ ساری زندگی اس وہم کا شکار رہتا ہے کہ وہ خود کچھ نہیں کر سکتا۔

مزید برآں، پورن انڈسٹری نے اسے یہ سکھایا ہے کہ عورت ایک ”مشین“ ہے، ایک کھلونا ہے جس کا کوئی جذبات، کوئی درد یا کوئی ردعمل نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ پہلی ہی رات، پہلے ہی گھنٹےمیں سب کچھ فتح کرنا ضروری ہے۔ یہ سوچ اسے ایک ”درندہ“ بنا دیتی ہے۔

وہ اپنی نوبیاہتا بیوی کی نفسیات، اس کی جھجھک، اس کے خوف، اس کی تھکاوٹ اور اس کی حیا کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے صرف اپنی ”فتح“ کا جھنڈا گاڑنا چاہتا ہے۔

وہ سمجھتا ہے کہ اگر خون نکلا تو وہ کامیاب ہے، ورنہ شک۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

یہ عمل اس رشتے کی بنیاد میں ہی ”درار“ اور ”نفرت“ ڈال دیتا ہے۔

یاد رکھیں!

پہلی رات ”فتح“ کرنے کی رات نہیں، یہ قلعہ سر کرنے کا مشن نہیں، یہ ”تعارف“، ”انسیت“ (Intimacy) اور ”اعتماد سازی“ کی رات ہے۔

اگر آپ نے پہلی رات اپنی بیوی کو عزت اور اسپیس (Space) دی، تو وہ ساری زندگی آپ کی عزت کرے گی اور آپ پر جان چھڑکے گی۔

اگر آپ نے اسے محض گوشت کا ٹکڑا سمجھ کر استعمال کیا، تو آپ نے اس کے دل کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا، پھر آپ کو جسم تو ملے گا، مگر وہ ”سکون“ کبھی نہیں ملے گا جس کا وعدہ قرآن نے کیا ہے۔

اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں، جو اس سے بھی زیادہ دردناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔ ہ

ماری معصوم بیٹیاں، جنہیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ ”جسم کی حفاظت کرو“، ”کسی غیر مرد کو قریب نہ آنے دو“، ”اپنی عزت پر پہرہ دو“، اچانک ایک دستخط کے بعد ایک اجنبی مرد کے حوالے کر دی جاتی ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک بٹن دباتے ہی ”نارمل“ ہو جائیں گی اور وہ ساری حیا اور جھجھک ختم ہو جائے گی جو بیس سال تک ان کی تربیت کا حصہ رہی۔

ان کے کانوں میں بڑی بوڑھیوں، کزنز اور دوستوں نے خوفناک اور مبالغہ آمیز کہانیاں بھری ہوتی ہیں۔

”بہت درد ہوتا ہے“، ”خون کے فوارے چھوٹتے ہیں“، ”برداشت کرنا پڑتا ہے“، ”لڑکی مر بھی سکتی ہے“۔

یہ جہالت پر مبنی قصے لڑکی کے نازک دماغ میں ”Fear Psychosis“ پیدا کر دیتے ہیں۔ وہ دولہے کو ایک ”قصائی“ کے روپ میں دیکھ رہی ہوتی ہے۔

نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

ایک انتہائی پیچیدہ طبی اور نفسیاتی حالت جسے ”Vaginismus“ کہتے ہیں۔

جب لڑکی شدید خوف (Fear)، انزائٹی اور ذہنی دباؤ میں ہوتی ہے، تو اس کا دماغ (Amygdala) خطرے کا سائرن بجاتا ہے۔ اس کے ردعمل میں اس کا جسم (Sympathetic Nervous System) متحرک ہوتا ہے اور اس کے جسم کے نچلے حصے، خاص طور پر شرمگاہ کے پٹھوں (Pelvic Floor Muscles) کو لاشعوری طور پر ”لاک“ (Lock) کر دیتا ہے۔ یہ ایک قدرتی دفاعی نظام ہے جو جسم کو چوٹ سے بچانے کے لیے ہوتا ہے۔

اس حالت میں جنسی عمل تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، گویا وہاں دیوار کھڑی ہو گئی ہو، اور اگر اس حالت میں زبردستی کی جائے تو یہ شدید ترین تکلیف دہ ہوتا ہے اور وہاں زخم (Tears) آ سکتے ہیں۔

میرے پاس ایسے درجنوں اوریجنل کیس اسٹڈیز ہیں جو دل کو خون کے آنسو رلاتے ہیں۔

ایک واقعہ مجھے یاد ہے جہاں ایک نوبیاہتا جوڑا شادی کی رات ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا۔ لڑکی شدید درد سے چیخ رہی تھی، اس کا رنگ پیلا تھا اور وہ بار بار بے ہوش ہو رہی تھی۔ ڈاکٹرز اور نرسیں یہ سمجھیں کہ شاید کوئی وحشیانہ عمل ہوا ہے اور اندرونی اعضاء پھٹ گئے ہیں یا کوئی شدید چوٹ (Trauma) آئی ہے، لیکن جب معائنہ کیا گیا تو پتا چلا کہ اسے کوئی جسمانی چوٹ نہیں تھی، نہ کوئی بلیڈنگ تھی، بلکہ وہ شدید ”خوف کے دورے“ (Panic Attack) اور ”Vaginismus“ کا شکار تھی۔

شوہر نے دوستوں کے کہنے پر طاقت کی ادویات کھا کر، بنا کسی تیاری کے، بنا کسی محبت کے زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی، جس نے لڑکی کے جسم اور دماغ کو ”شاک“ (Shock) میں ڈال دیا تھا۔ وہ لڑکی ذہنی طور پر مفلوج ہو چکی تھی۔

اس ایک رات کا ٹراما اس لڑکی کے ذہن سے اگلے دس سال تک نہیں نکلا ہوگا، وہ شوہر کی شکل دیکھ کر کانپنے لگتی تھی اور یقیناً بعد میں بھی یہی صورتحال رہی ہوگی اور یقیناً وہ جوڑا کبھی بھی نارمل ازدواجی زندگی نہیں گزار سکا ہوگا۔

یہ ”قتل“ نہیں تو اور کیا ہے؟

یہ اس محبت، اس اعتماد اور اس سکون کا قتل ہے جس کے لیے نکاح کا ادارہ بنایا گیا تھا۔ یہ جہالت کا وہ آسیب ہے جو ہماری خوشیوں کو نگل رہا ہے۔

ایک اور بہت بڑی غلط فہمی جو ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلی ہوئی ہے، وہ ”خون“ (Bleeding) اور ”ہائمن“ (Hymen) کا افسانہ ہے۔

جاہلانہ روایات کے مطابق اگر پہلی رات لڑکی کو خون نہ آئے تو سمجھا جاتا ہے کہ وہ ”پاک دامن“ نہیں تھی۔ یہ سراسر طبی جہالت اور ظلم ہے۔

میڈیکل سائنس واضح طور پر بتاتی ہے کہ ہائمن (پردہ بکارت) کوئی سیل بند دروازہ نہیں ہے جو صرف جماع سے ٹوٹتا ہے۔ یہ ایک لچکدار جھلی ہے جو بچپن میں کھیل کود، سائیکل چلانے، اچھل کود, ورزش یا تکلیف دہ حیض کی بدولت بھی پھیل سکتی ہے یا ختم ہو سکتی ہے۔

اور بہت سی خواتین میں یہ قدرتی طور پر اتنی لچکدار ہوتی ہے کہ جماع کے دوران بھی نہیں پھٹتی اور خون نہیں آتا۔

کسی لڑکی کی پاکیزگی کا ثبوت ”خون“ میں تلاش کرنا زمانہ جاہلیت کی نشانی ہے۔ شوہر کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ خون کا نہ آنا کوئی عیب نہیں ہے، اور خون لانے کے لیے وحشیانہ طریقے استعمال کرنا ظلمِ عظیم ہے۔

اسلام اور جدید میڈیکل سائنس اس مسئلے کا کیا حل پیش کرتے ہیں؟

حل بہت سادہ، مگر انتہائی گہرا اور فطرت کے عین مطابق ہے۔

قرآن کہتا ہے:

”نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ“
(تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں)۔

اس استعارے (Metaphor) پر غور کریں۔ کسان کھیتی میں ٹریکٹر لے کر اندھا دھند نہیں چڑھ دوڑتا، نہ ہی وہ بنجر اور خشک زمین پر بیج پھینکتا ہے۔

وہ پہلے زمین کو ”نرم“ کرتا ہے، اسے پانی دیتا ہے، اسے تیار کرتا ہے، اس کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ جب زمین تیار ہوتی ہے، تب ہی وہ بیج قبول کرتی ہے اور فصل اگاتی ہے۔

یہی اصول ازدواجی زندگی کا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

”تم میں سے کوئی اپنی بیوی پر جانوروں کی طرح نہ گرے، بلکہ ان کے درمیان ایک ’پیغام رساں‘ (Messenger) ہونا چاہیے۔“

صحابہؓ نے پوچھا وہ کیا ہے؟ فرمایا:

”بوس و کنار اور میٹھی باتیں۔“

یہ 1400 سال پہلے دی گئی ”Foreplay“ کی تعلیم ہے جسے آج مغرب ”سیکس تھراپی“ کے نام سے بیچ رہا ہے۔ سائنس آج بتاتی ہے کہ مرد اور عورت کی ”حیاتیاتی گھڑی“ (Biological Clock) اور ”Arousal Cycle“ بالکل الگ الگ ہے۔

مرد ایک ”مائیکرو ویو اوون“ کی طرح ہے جو سیکنڈوں میں گرم ہو جاتا ہے (کیونکہ وہ بصری مخلوق ہے، اسے صرف دیکھنے یا چھونے سے تحریک ملتی ہے)، جبکہ عورت ایک ”تندور“ یا ”اوون“ کی طرح ہے جسے گرم ہونے اور تیار ہونے میں وقت لگتا ہے۔ اسے 20 سے 40 منٹ درکار ہوتے ہیں۔ اس کی تیاری ”جسمانی“ سے زیادہ ”جذباتی“ (Emotional) اور ”ذہنی“ ہوتی ہے۔

عورت کے لیے سب سے بڑا ”سیکس آرگن“ اس کی ٹانگوں کے درمیان نہیں، بلکہ اس کے دونوں کانوں کے درمیان یعنی اس کا دماغ ہے۔

اگر وہ ذہنی طور پر پرسکون نہیں ہے، اگر اسے محبت، تحفظ اور عزت کا احساس نہیں ہے، تو اس کا دماغ (Hypothalamus) جسم کو تیار ہونے کا سگنل (Lubrication) نہیں بھیجے گا۔ اس صورت میں جنسی عمل رگڑ اور تکلیف کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

مرد کے لیے سیکس ”ٹینشن ریلیز“ (Tension Release) ہے، جبکہ عورت کے لیے یہ ”ٹینشن کا باعث“ بن سکتا ہے اگر اسے پیار نہ ملے۔

لہٰذا، نئے جوڑوں کے لیے میری ذاتی گائیڈ بک کا پہلا اور سنہری اصول یہ ہے:

”جلدی مت کریں۔ صبر کریں۔“

پہلی رات، یا شادی کے ابتدائی دو تین دنوں میں دخول (Penetration) ہرگز ضروری نہیں ہے۔

ان دنوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے، باتیں کرنے، ہنسنے، ساتھ کھانا کھانے اور ایک دوسرے کے لمس کا عادی ہونے میں گزاریں۔

شوہر کو چاہیے کہ وہ پہلی رات بیوی سے واضح طور پر کہے:

”تمہارا آرام، تمہاری سکون اور تمہاری رضامندی میرے لیے اپنی خواہش سے زیادہ اہم ہے۔ ہم کوئی بھاگے نہیں جا رہے، ہمارے پاس پوری زندگی پڑی ہے۔“

یقین مانیں!

یہ ایک جملہ جادوئی اثر رکھتا ہے۔ جب عورت کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ یہ مرد ”درندہ“ نہیں بلکہ ”محافظ“ ہے، یہ مجھ سے چھیننے نہیں بلکہ مجھے دینے آیا ہے، تو اس کا دماغ ”آکسیٹوسن“ (Trust Hormone) خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمون اس کے خوف کو ختم کرتا ہے، اس کے پٹھوں کو ریلیکس (Relax) کرتا ہے اور اس کے جسم کو قدرتی طور پر تیار کرتا ہے۔ جو کام زبردستی اور ادویات سے نہیں ہو سکتا، وہ محبت، اعتماد اور صبر سے منٹوں میں اور بنا کسی تکلیف کے ہو جاتا ہے۔

دوسرا اہم ترین اصول ”حفظانِ صحت اور صفائی“ (Hygiene) ہے۔

ہمارے ہاں اس پہلو کو بھی بری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے۔ پسینے کی بدبو، منہ کی بدبو، یا جسمانی صفائی کا خیال نہ رکھنا دوسرے فریق کے لیے، خاص طور پر عورت کے لیے جو کہ خوشبو کی زیادہ حساس ہوتی ہے، شدید کوفت (Turn-off) کا باعث بنتا ہے۔

نبی کریم ﷺ گھر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے مسواک کرتے تھے۔ آپ ﷺ خوشبو پسند فرماتے تھے۔ اسلام نے زیرِ ناف صفائی (Pubic Hair Removal) کو فطرت کا حصہ قرار دیا ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت 40 دن رکھی ہے۔ یہ محض عبادت کے لیے نہیں، بلکہ یہ ایک صحت مند جنسی زندگی کی بنیاد ہے۔ گندگی اور بدبو جنسی کشش کو مار دیتی ہے۔

ایک مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے ویسا ہی بن کر رہے جیسا وہ چاہتا ہے کہ بیوی اس کے لیے بنے۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے تھے:

”میں اپنی بیوی کے لیے ویسا ہی بننا سنورنا پسند کرتا ہوں جیسا میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے لیے بن کر رہے۔“

تیسرا اصول ”پرائیویسی اور راز“ ہے۔

نبی کریم ﷺ نے اس شخص کو بدترین قرار دیا جو اپنی بیوی کے راز دوستوں میں بیان کرے۔ آج کل لڑکے واٹس ایپ گروپس میں اپنی ”کارکردگی“ کے قصے سناتے ہیں، اور لڑکیاں اپنی سہیلیوں کو بتاتی ہیں۔ یہ ”حیاتیاتی اور اخلاقی غداری“ ہے۔

آپ کے بیڈ روم کی باتیں آپ دونوں کے درمیان اللہ کی امانت ہیں۔ جب یہ باتیں باہر نکلتی ہیں، تو رشتے سے ”برکت“، ”حیا“ اور ”اعتماد“ ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے نظر لگتی ہے اور نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

اب آتے ہیں ان کیسز کی طرف جہاں طبی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اگر تمام تر محبت، فور پلے اور صبر کے باوجود جنسی عمل ممکن نہ ہو رہا ہو، یا شدید درد ہو، یا دخول ممکن نہ ہو پا رہا ہو، تو خدا کے لیے اسے ”نظر لگ گئی“، ”کسی نے باندھ دیا“ یا ”جادو ہو گیا“ کہہ کر جعلی پیروں فقیروں کے پاس نہ لے جائیں۔

یہ Vaginismus (عورت کا مسئلہ) یا Phimosis (مردانہ مسئلہ) ہو سکتا ہے۔ یہ قابلِ علاج طبی مسائل ہیں۔ کسی اچھی گائناکالوجسٹ، یورولوجسٹ یا کوالیفائیڈ سیکس تھراپسٹ سے رجوع کریں۔

یہ شرم کی بات نہیں ہے۔ شرم کی بات یہ ہے کہ آپ جہالت اور انا کی وجہ سے اپنی زندگی برباد کر لیں اور طلاق تک نوبت آ جائے۔

شادی کی پہلی رات کوئی ”ٹیسٹ میچ“ نہیں ہے جس میں آپ نے سنچری بنانی ہے، اور نہ ہی یہ کوئی ”ہارر مووی“ ہے۔ یہ دو انسانوں کا ”روحانی، جسمانی اور جذباتی انضمام“ (Fusion) ہے۔

اللہ نے فرمایا:

”هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ“
(وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو)۔

لباس کا کام کیا ہے؟

ستر پوشی: ایک دوسرے کے عیب چھپانا، ننگا نہ کرنا۔
حفاظت: موسم کی سختی (معاشرتی دباؤ اور گناہ) سے بچانا۔
زینت: ایک دوسرے کی خوبصورتی اور وقار بننا۔
قربت: لباس جسم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، کوئی فاصلہ نہیں ہوتا۔

اپنے شریکِ حیات کا لباس بنیں۔ اس کے عیبوں پر پردہ ڈالیں۔ اسے اپنے جسم کی ڈھال بنائیں۔

نوجوانو!

ان گندی گولیوں، سپریز اور فحش فلموں کے تصورات کو نالی میں بہا دو۔ تمہاری اصل طاقت تمہارا ”دماغ“، تمہارا ”کردار“ اور تمہاری ”محبت“ ہے۔

اگر تمہاری بیوی تم سے راضی ہے، اگر وہ تمہاری بانہوں میں پرسکون ہے، اگر وہ تمہیں دیکھ کر مسکراتی ہے، تو تم دنیا کے سب سے بڑے اور کامیاب مرد ہو۔ مردانگی ٹائمنگ میں نہیں، ”کیئرنگ“ (Caring) میں ہے۔مردانگی فتح کرنے میں نہیں، ”جیت لینے“ میں ہے۔

اور میری بہنو!

خوف کے ان بتوں کو توڑ دو۔ اللہ نے تمہارے جسم کو اس عمل کے لیے بہترین انداز میں ڈیزائن کیا ہے، یہ کوئی ٹارچر نہیں ہے، یہ فطرت کا خوبصورت ترین عمل ہے بشرطیکہ یہ حلال اور محبت بھرے ماحول میں ہو۔ اپنے شوہر سے بات کرو، اسے اپنی کیفیت بتاؤ، اسے اپنا دوست بناؤ۔

یہ سفر لمبا ہے۔ ایک دوسرے کو وقت دیں۔ جلد بازی نہ کریں۔

”وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً“۔

اس مودت اور رحمت کو تلاش کریں، یہ کسی میڈیکل اسٹور پر نہیں، آپ کے اپنے رویے، صبر، نرمی اور اللہ کے خوف میں پوشیدہ ہے۔

پہلی رات کو ”خوف اور درد کی رات“ کے بجائے ”سکون اور یادگار رات“ بنائیں۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک صحت مند، صالح اور خوشحال نسل تعمیر ہوگی۔
ADVERTISEMENT In-Article Ad Slot

تبصرے

Searching posts...
Searching posts...
Searching posts...