Friday, January 9, 2026

وقت کا قید خانہ: لمحوں سے صدیوں تک کا خونی سفر اور انسانی جنون کی داستان! - بلال شوکت آزاد

Bilal Shoukat Azad 0 تبصرے
ADVERTISEMENT In-Article Ad Slot




یہ سال 2025 کی آخری رات ہے، اور 2026 کی دہلیز پر کھڑی انسانیت اپنی کلائیوں پر بندھی گھڑیوں کو ٹک ٹک کرتے دیکھ رہی ہے۔
ٹھیک 2 گھنٹے بعد، جب کیلنڈر کا ہندسہ بدلے گا، دنیا بھر میں آتش بازی ہوگی، نعرے لگیں گے اور جشن منایا جائے گا۔
لیکن ذرا ایک لمحے کے لیے رکیں۔ گہرا سانس لیں اور سوچیں:
یہ ”12 بجنا“، یہ ”نیا سال“، یہ ”ایک سیکنڈ“ اور یہ ”صدی“ آخر ہیں کیا؟
کیا وقت واقعی ان خانوں میں بٹا ہوا ہے، یا یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا، سب سے پیچیدہ اور سب سے ظالم ”دماغی پنجرہ“ ہے جسے ہم نے خود اپنے لیے تراشا ہے؟
آج، جب 2025 ماضی کا حصہ بننے جا رہا ہے، میں آپ کو وقت کی اس پراسرار، خونی اور جنونی سرنگ میں لے چلتا ہوں جہاں ہم دیکھیں گے کہ انسان نے ”وقت“ جیسے بے لگام اور وحشی گھوڑے کو کیسے ریاضی کی زین ڈالی، اور کب کب اس زین کے کسنے میں ہم نے قدرت کے نظام سے چھیڑ چھاڑ کی تو کیسے ہماری اپنی بائیولوجی اور کائنات کا توازن درہم برہم ہوا۔ یہ تحریر محض تاریخ نہیں، یہ وقت کا ”پوسٹ مارٹم“ ہے۔
انسانی تاریخ کے ابتدائی ایام میں، جب انسان غاروں اور جنگلوں میں رہتا تھا، وقت کوئی ریاضی کا فارمولا نہیں تھا جسے سیکنڈز میں ناپا جا سکے، بلکہ یہ ایک ”بہتا ہوا احساس“ (Fluid Sensation) تھا۔
قدیم انسان کا ”دن“ گھڑی کی سوئیوں کا محتاج نہیں تھا، بلکہ ”سایوں“ اور ”روشنی“ کا پابند تھا۔
جب سورج افق سے سر ابھارتا تو زندگی شروع ہوتی، جب سر پر آتا تو ”دوپہر“ کا وقفہ ہوتا، اور جب سائے لمبے ہو کر غائب ہو جاتے تو ”رات“ کا سکوت چھا جاتا۔
اس دور میں انسان ”لکیری وقت“ (Linear Time) یعنی 2024 سے 2025 کی طرف سفر نہیں کرتا تھا، بلکہ وہ ”چکری وقت“ (Cyclical Time) میں زندہ تھا۔
وہ دیکھتا تھا کہ موسم بہار آتا ہے، چلا جاتا ہے اور پھر واپس آتا ہے۔
چاند بڑھتا ہے، گھٹتا ہے اور پھر نیا ہو جاتا ہے۔
اس کے لیے وقت ایک ”دائرہ“ تھا جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
اسٹون ہینج (Stonehenge) جیسے قدیم آثار بتاتے ہیں کہ انسان نے سب سے پہلے وقت کو ”عبادت“ کے لیے ناپنا شروع کیا تاکہ اسے معلوم ہو سکے کہ سورج دیوتا کب واپس آئے گا۔
[Source: Hawkins, G. S. (1965). Stonehenge Decoded].
وقت کو فطرت کے ہاتھوں سے چھین کر ریاضی کے پنجرے میں قید کرنے کی پہلی منظم کوشش آج سے تقریباً 5000 سال پہلے سمیرین (Sumerians) اور بابل (Babylonians) کے لوگوں نے کی، جو آج کے عراق میں آباد تھے۔
انہوں نے دیکھا کہ سورج آسمان پر اپنا ایک چکر تقریباً 360 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔
یہیں سے انہوں نے جیومیٹری کا دائرہ 360 ڈگری کا بنایا۔
لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جس کا جواب اکثر لوگ نہیں جانتے:
آخر ایک گھنٹے میں 60 منٹ اور ایک منٹ میں 60 سیکنڈ ہی کیوں؟
100 کیوں نہیں؟
یہ ریاضی کا ایک شاہکار فیصلہ تھا۔ بابل کے لوگ ہمارے موجودہ ”اعشاری نظام“ (Decimal System/Base-10) کے بجائے ”سیکس جیسیمل سسٹم“ (Sexagesimal/Base-60) استعمال کرتے تھے۔
وجہ یہ تھی کہ 10 کا ہندسہ صرف 2 اور 5 پر تقسیم ہوتا ہے، جبکہ 60 کا ہندسہ 2، 3، 4، 5، 6، 10، 12، 15، 20 اور 30 پر پورا پورا تقسیم ہو جاتا ہے۔
یہ ”تقسیم کی آسانی“ (Divisibility) تھی جس نے ہمیں ہمارے گھنٹے اور منٹ دیے۔
اگر وہ اعشاری نظام استعمال کرتے تو آج ہمارا آدھا گھنٹہ ”50 منٹ“ کا ہوتا اور تہائی گھنٹہ ”33.333“ کا، جو کہ حساب میں پیچیدگی پیدا کرتا۔
بابل والوں نے وقت کو ریاضی میں تو قید کر لیا، لیکن وہ ابھی بھی ”سیاروں“ کی پوجا کر رہے تھے۔
[Source: Neugebauer, O. (1969). The Exact Sciences in Antiquity]
وقت کے ساتھ سب سے بڑا کھلواڑ رومن دور میں ہوا۔
رومن بادشاہوں نے کیلنڈر کو سیاست کا اکھاڑا بنا لیا تھا۔
وہ اپنی مرضی سے مہینے چھوٹے بڑے کر دیتے تاکہ اپنے پسندیدہ افسران کی مدتِ ملازمت بڑھا سکیں یا الیکشن مؤخر کر سکیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ کیلنڈر موسموں سے بالکل کٹ گیا۔ جنوری کا مہینہ (جو سردیوں کا تھا) فصل کٹنے کے موسم میں آ رہا تھا۔
46 قبل مسیح میں جولیس سیزر (Julius Caesar) نے اس نظام کو درست کرنے کی ٹھانی۔ اس نے ماہرینِ فلکیات کی مدد سے ”جولین کیلنڈر“ متعارف کرایا۔ لیکن پچھلی غلطیوں کو سدھارنے کے لیے اسے اس ایک سال (46 BC) میں 90 دن اضافی ڈالنے پڑے۔
یہ تاریخ کا سب سے لمبا سال تھا جو 445 دنوں پر محیط تھا۔ اسے تاریخ میں ”The Year of Confusion“ (انتشار کا سال) کہا جاتا ہے۔
ذرا سوچیے، اس سال لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس تاریخ میں جی رہے ہیں، معاہدے کب ختم ہوں گے اور تہوار کب منائے جائیں گے۔
سیزر نے سال کو 365.25 دن کا قرار دیا اور ”لیپ ایئر“ (Leap Year) کا تصور دیا۔
[Source: Richards, E. G. (1998). Mapping Time: The Calendar and Its History]
جولیس سیزر کا کیلنڈر اچھا تھا، لیکن کامل نہیں تھا۔ اس میں ہر سال 11 منٹ اور 14 سیکنڈ کا فرق رہ گیا تھا۔ بظاہر یہ معمولی فرق تھا، لیکن صدیوں کے سفر میں یہ فرق جمع ہو کر 10 دن تک پہنچ چکا تھا۔
سولہویں صدی تک نوبت یہاں تک آ گئی کہ ایسٹر (Easter) کا تہوار اپنے موسم سے ہٹ گیا۔
اسے درست کرنے کے لیے پوپ گریگوری ہشتم (Pope Gregory XIII) نے ایک انقلابی اور ڈراؤنا فیصلہ کیا۔
اس نے حکم دیا کہ کیلنڈر سے 10 دن کاٹ دیے جائیں۔
4 اکتوبر 1582 کی رات کو لوگ سوئے، اور جب اگلی صبح جاگے تو تاریخ 15 اکتوبر تھی۔
دنیا بھر میں (خاص طور پر یورپ میں) ہنگامے ہو گئے۔ ان پڑھ کسانوں اور مزدوروں نے بغاوت کر دی، ان کا نعرہ تھا:
”ہماری زندگی کے 10 دن واپس کرو!“
انہیں لگا کہ چرچ نے جادو کر کے ان کی عمریں 10 دن کم کر دی ہیں۔
کرایہ داروں نے اس مہینے کا پورا کرایہ دینے سے انکار کر دیا کیونکہ مہینہ چھوٹا ہو گیا تھا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب انسان کو شدت سے احساس ہوا کہ وقت اب فطرت کے ہاتھ سے نکل کر ”سیاست اور مذہب“ کے کنٹرول میں جا چکا ہے۔
[Source: Duncan, D. E. (1998). Calendar: Humanity's Epic Struggle to Determine a True and Accurate Year]
وقت کے پیمانوں کے ساتھ سب سے بڑی چھیڑ چھاڑ ”ہفتے“ (Week) کے ساتھ کی گئی۔
یاد رکھیں، دن، مہینہ اور سال تو فلکیاتی پیمانے ہیں (زمین، چاند اور سورج کی گردش)، لیکن ”ہفتہ“ (7 دن) کا کائنات میں کوئی فلکیاتی وجود نہیں ہے۔
یہ خالصتاً الہامی اور نفسیاتی ایجاد ہے (6 دن تخلیق اور ایک دن آرام)۔
1793 میں فرانسیسی انقلاب (French Revolution) کے دوران، لبرل انقلابیوں نے عیسائیت اور مذہب کے ہر نشان کو مٹانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے سوچا کہ 7 دن کا ہفتہ چونکہ بائبل سے آیا ہے، اسے ختم کر کے ”عشری نظام“ (Decimal System) لایا جائے۔
انہوں نے 10 دن کا ہفتہ (جسے Decade کہا گیا) رائج کیا۔ گھڑیوں کو بھی تبدیل کر دیا گیا؛
اب دن میں 24 کے بجائے 10 گھنٹے تھے، ہر گھنٹے میں 100 منٹ اور ہر منٹ میں 100 سیکنڈ۔
نتیجہ؟
ایک مکمل تباہی۔
لوگوں کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔
9 دن مسلسل کام کرنے کے بعد 10ویں دن چھٹی ملتی تھی، جس سے مزدور تھک کر نڈھال ہو گئے۔
یہاں تک کہ مویشی (گھوڑے اور بیل) بھی بیمار ہو گئے کیونکہ ان کی بائیولوجیکل گھڑی 7 دن کے سائیکل کی عادی ہو چکی تھی۔
آخرکار نپولین کو اپنی شکست تسلیم کرنی پڑی اور فرانس واپس 7 دن کے ہفتے پر آ گیا۔
یہ تاریخ کا سبق تھا کہ انسان ریاضی سے سب کچھ بدل سکتا ہے، مگر اپنی ”حیاتیاتی اور نفسیاتی لے“ (Bio-psychological Rhythm) کو نہیں بدل سکتا۔
[Source: Zerubavel, E. (1985). The Seven Day Circle]
بیسویں صدی میں سائنس نے وقت کے سینے میں خنجر گھونپ کر اسے مزید باریک کر دیا۔
1967 تک ”ایک سیکنڈ“ کی تعریف زمین کی گردش کے مطابق کی جاتی تھی۔
لیکن سائنسدانوں نے دیکھا کہ زمین ایک سست اور غیر مستحکم سیارہ ہے؛ کبھی زلزلوں اور کبھی سمندری لہروں کی وجہ سے اس کی رفتار میں ملی سیکنڈز کا فرق آ جاتا ہے۔
سائنس کو ”مطلق درستگی“ (Absolute Precision) چاہیے تھی۔
چنانچہ 1967 میں انہوں نے زمین کو چھوڑ کر ”ایٹم“ کا دامن تھاما۔
آج ایک سیکنڈ کا مطلب ہے سیزیم-133 (Caesium-133) ایٹم کی 9,192,631,770 مرتبہ تھرتھراہٹ (Vibrations)۔
یہ ہے وہ ”ایٹمی وقت“ (Atomic Time) جس نے ہمیں مائیکرو سیکنڈ (ایک سیکنڈ کا دس لاکھواں حصہ) اور نینو سیکنڈ (ایک سیکنڈ کا اربواں حصہ) دیا۔
آپ پوچھیں گے کہ اس باریک بینی کا عام انسان کو کیا فائدہ؟
جناب!
آپ کا جی پی ایس (GPS)، آپ کا انٹرنیٹ، اور آپ کی بینکنگ ٹرانزیکشنز اسی نینو سیکنڈ کی درستگی پر چل رہی ہیں۔
روشنی ایک نینو سیکنڈ میں صرف ایک فٹ (30 سینٹی میٹر) کا فاصلہ طے کرتی ہے۔
اگر سیٹلائٹ کی گھڑی میں چند نینو سیکنڈ کا بھی فرق آ جائے، تو آپ کی گوگل میپ کی لوکیشن میلوں دور جا گرے گی۔
لیکن اس درستگی کی ہم نے ایک بھاری نفسیاتی قیمت چکائی ہے۔
ہم نے وقت کو اتنا باریک کر لیا کہ اب ہم ”لمحہِ موجود“ کو محسوس کرنے کے بجائے اسے ”گزرتا ہوا“ دیکھتے ہیں۔ ہم ”وقت کے قحط“ (Time Famine) کا شکار ہو گئے ہیں۔
[Source: Jones, T. (2000). Splitting the Second]
وقت کے پیمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نے سب سے خوفناک اور خاموش اثر ہماری صحت پر ڈالا ہے۔
اللہ نے انسان کے دماغ میں ایک ماسٹر کلاک رکھی ہے جسے Suprachiasmatic Nucleus (SCN) کہتے ہیں۔
یہ گھڑی کروڑوں سالوں سے سورج کی روشنی (نیلی روشنی) اور رات کے اندھیرے (میلاٹونین ہارمون) پر چل رہی تھی۔
جب انسان نے ایڈیسن کا بلب ایجاد کیا اور پھر اکیسویں صدی میں موبائل اسکرین، تو ہم نے اپنی آنکھوں کے ذریعے دماغ کو جھوٹا سگنل دیا کہ ”ابھی دن ہے“، حالانکہ باہر رات ہو چکی تھی۔
ہم نے رات کے 12 بجے کو ”دن“ بنا لیا۔
نتیجہ؟
ہمارا Circadian Rhythm (یومیہ حیاتیاتی چکر) ٹوٹ گیا۔
نیند کے مسائل، ڈپریشن، موٹاپا، اور کینسر جیسی بیماریاں اسی ”وقت کے بگاڑ“ کا نتیجہ ہیں۔
ہم نے سال اور مہینے تو ایٹمی گھڑیوں سے درست کر لیے، مگر اپنا ”اندرونی وقت“ (Biological Time) برباد کر لیا۔
آج کا انسان 2026 میں داخل ہو رہا ہے، مگر اس کا جسم شاید پتھر کے زمانے کے سورج کو ڈھونڈ رہا ہے۔
[Source: Foster, R. G., & Kreitzman, L. (2004). Rhythms of Life]
کل جب آپ 2026 کا سورج دیکھیں گے، تو یاد رکھیے گا کہ یہ ”سال“ محض زمین کا سورج کے گرد ایک چکر ہے، اور یہ ”سیکنڈ“ محض ایک ایٹم کی تھرتھراہٹ ہے۔
کائنات کو نہیں پتا کہ 2026 شروع ہوا ہے!
یہ پیمانے, نینو سیکنڈ سے لے کر صدیوں تک, ہمارے بنائے ہوئے پنجرے ہیں تاکہ ہم اس لامحدود اور بہتے ہوئے دریا کو سمجھ سکیں۔
حقیقی وقت وہ نہیں جو گھڑی بتاتی ہے (Chronos)، حقیقی وقت وہ ہے جو آپ محسوس کرتے ہیں (Kairos)۔
ایک سیکنڈ اگر درد کا ہو تو صدی لگتا ہے، اور خوشی کی صدی ہو تو ایک لمحہ لگتی ہے۔
آئن اسٹائن نے اسے ”اضافیت“ (Relativity) کہا تھا، اور ہمارے علماء نے اسے ”وقت میں برکت“ کہا تھا۔
بلال شوکت آزاد یعنی کے میرا آپ کو پیغام یہ ہے کہ
”نئے سال میں وقت کے غلام نہ بنیں، بلکہ وقت کے شہسوار بنیں۔ 2025 ماضی بن چکا، 2026 ایک کورے کاغذ کی طرح سامنے ہے۔ اس پر آپ کو ”لمحوں“ کا حساب نہیں لکھنا، بلکہ ”زندگی“ لکھنی ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک کو اپنی دل کی دھڑکن پر حاوی نہ ہونے دیں۔“
نیا سال، نیا شعور اور وقت کی قید سے آزادی مبارک!
ADVERTISEMENT In-Article Ad Slot

تبصرے

Searching posts...
Searching posts...
Searching posts...